1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

جرمنی کی سوشل ڈیموکریٹک پارٹی:قیادت میں تبدیلی

سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کی مقبولیت کا گراف ایک عرصے سے پستی کی طرف گامزن ہے۔

default

اسے سہارا دینے ایک کوشش فرانک والٹر شٹائن مائر کی بطور چانسلر امیدوار نامزدگی ہے۔ مزید یہ کہ پارٹی کے ناکام چیرمین Kurt Beck بھی اپنے اس عہدے سے دستبردار ہو گئے ہیں۔ ان کی جگہہ ایک بار پھرFranz منٹے فیرنگ کوپارٹی سربراہ کے فرائض سونپ دئے گئے،حالانکہ تین سال قبل اسی پارٹی نے انہیں یہ عہدہ چھوڑنے پر مجبور کر دیا تھا۔

منٹے فیرنگ نے SPD کے پارلیمانی حزب کے قائد کے طور پر سابق چانسلر Gerhard Schröder کے اصلاحاتی ایجنڈے کو پایہٓ تکمیل تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ پھر جب پارٹی کے اندرونی دبائو کی وجہ سے Schröder کو پارٹی سربراہ کا عہدہ چھوڑنا پڑا تو منٹے فیرنگ کوSPD کا چیرمین بنا دیا گیا تھا۔ ڈیڑھ سال بعد جب قبل از وقت کرائے جانے والے عام انتخابات میں Schröder، انگیلا میرکل کے مقابلے میں ہار گئے تو پارٹی کی بائیں بازو کی سیاستدان Andrea Nahles کو منٹے فیرنگ کی مرضی کے برعکسSPD کی جنرل سیکرٹری بنا دیا گیا تو منٹے فیرنگ نے استعفٰی دے دیا تھا۔ اس وقت فوری حل کے طور پرصوبہ برانڈن برگ کے وزیر اعلٰی Matthias Platzeck کو پارٹی سربراہ بنا دیا گیا۔ لیکن خرا بئی صحت کی وجہ سے وہ جلد ہی پیچھے ہٹ گئے۔ چنانچہ ان کی جگہہ یہ عہدہ Kurt Beck کے سپرد کر دیا گیا۔ لیکن وہ بھی پارٹی کی گرتی ہوئی ساکھ کو سہارا نہ دے سکے۔

Außenminister Frank-Walter Steinmeier

اب فرانک والٹر شٹائن مائر بطور چانسلر امیدوار اور منٹے فیرنگ بطور پارٹی سربراہ مل کرSPD کی گرتی ہوئی ساکھ کو بہتر بنانے کی کوشش کریں گے۔ تاہم پارٹی کے اندر ان کی پوزیشن بھی ایسی نہیں کہ انہیں واضح حمایت حاصل ہو۔ اگرچہ ضرورت کے تحت سوشل ڈیموکریٹس ان کے گرد اکٹھے رہیں گے، لیکن عام انتخابات میں ابھی ایک سال باقی ہے۔ اس دوران پارٹی کے اندرکئی نئے تنازعات جنم لے سکتے ہیں۔ چنانچہ اعلٰی عہدوں کے لئے شٹائن مائر اور منٹے فیرنگ کا انتخاب SPD کی مجبوری تھی۔ کیوں کہ اس بات کا خطرہ موجود ہے کہ بائیں بازو کا دھڑا الگ ہو کر کہیں ملک کی بائیں بازو کی جماعت Linkspartei سے نہ جا ملے جو SPD کے ایک ناراض گروپ اور سابق مشرقی جرمنی کی سرکاری جماعت کے ادغام سے وجود میں آئی ہے۔ اور جس کی مقبولیت بڑھتی جا رہی ہے۔