1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

جرمنی کی سب سے بڑی مسجد، بین المذاہبی مکالمت کی زندہ مثال

جرمنی کے شمال مغربی صنعتی شہر ڈیوزبرگ ميں چند ماہ قبل جرمنی کی سب سے بڑی مسجد کی تعمير مکمل ہوئی تھی۔ اب تک اسے ديکھنے اور يہاں نماز پڑھنے کے لئے اسی ہزار سے زائد افراد آ چکے ہيں۔

default

جرمن صدرکوئلر مسجد کے دورے کے دوران

مسجد ميں آنے والوں کی رہنمائی کے لئے ايک خاتون مقرر ہيں جنہوں نے اسلامی علوم کی تعليم تو حاصل کی ہے ليکن وہ خود مسلمان نہيں ہيں۔

جرمنی کی اس سب سے بڑی اور شاندار مسجد کا گنبد 23 ميٹراونچا ہے۔ شہر Duisburg کی اس مسجد میں اسلامی خطاطی کے خوبصورت نمونے ديکھنے کو ملتے ہيں۔ اس کی کھڑکياں نيلے رنگ کے شيشے کی ہيں اور گنبد کی چھت سے ايک بہت بڑا فانوس لٹکا ہوا ہےجس کا قطر کئی میٹر بنتاہے۔ مسجد ميں بہت دبيز قالين بچھے ہوئے ہيں۔ اس وقت يہاں کيتھولک عيسائی خواتين کا ايک گروپ آيا ہوا ہے۔ شہر Hünxe سے آنے والے اس گروپ کی قيادت Doris Berenzmeier کررہی ہيں۔ انہوں نے ہميں بتايا:’’ميں نے خوف دور کرنے کے لئے سوچا کہ ہميں اس مسجد ميں آنا چاہئے اوريہ ديکھنا چاہئے کہ يہاں کے حالات کيا ہيں۔ ہميشہ جرمنی کی سب سے بڑی مسجد کا صرف ذکر ہی سننے ميں آتا تھا اوراس سے ڈر سا پيدا ہوتا تھا۔ ليکن يہاں آنے اوراندر داخل ہونے کے بعد ايسا با لکل محسوس نہيں ہوتا۔ يہ بہت ہی خوبصورت ہے۔ اس کی تزئين اورآرائش بڑی اچھی طرح سے کی گئی ہے اور يہاں سب لوگوں کا انداز بہت دوستانہ ہے۔‘‘

Mevlana Moschee in Berlin

برلن میں قائم ایک مسجد میں مسلمان دوران عبادت

شہر ڈيوزبرگ کی اس مسجد ميں ہر ماہ تقريبا ڈھائی ہزارافراد آتے ہيں۔ ان کا دوستانہ استقبال صرف مسجد کی کميٹی کے اراکين ہی نہيں کرتے بلکہ ايک 26 سالہ عيسائی خاتون بھی اس کام پر مامور ہيں۔ اسلامی علوم کی طالبہ Sabrina Christin تقريبا دو سال سے يہاں کام کررہی ہيں اوروہ دو زبانوں جرمن اورترکی ميں يہاں آنے والوں کو مسجد اور اسلام کے بارے ميں معلومات فراہم کرتی ہيں۔

سابرينا کو اسلام سے اپنے پہلے ربط کے بارے ميں اب بھی اچھی طرح سے ياد ہے۔

’’ميں جس گاؤوں ميں رہتی تھی وہاں کوئی غير ملکی نہيں تھا ليکن وہاں سن 1990 ميں سياسی پناہ گزينوں کے ہوسٹل پرحملہ ہوا تھا جس ميں ميری کلاس کے دو ساتھی بھی سخت زخمی ہوئے تھے۔ وہ اس حملے ميں مرتے مرتے بچے تھے۔‘‘

سابرينا کی عمر اس وقت آٹھ برس کی تھی اور اس نے سوچا تھا کہ لوگ آخر ايسا کيوں کرتے ہيں۔ پندرہ سال کی عمر ميں انہوں نے دوسرے مذاہب کے بارے ميں پڑھنا اور معلومات حاصل کرنا شروع کی تھیں۔ اس کے بعد انہوں نے Duisburg يونيورسٹی ميں سياسيات کی تعليم حاصل کی ليکن يہ ان کے لئے کافی نہيں تھا اوراس لئے انہوں نے شہر Bochum ميں اسلامی علوم کی تعليم شروع کی۔ اس کے لئے انہيں اپرنٹس شپ کی ضرورت پڑی اور انہوں نے ايک مسجد ميں گائیڈ کے طور پر کام کيا۔ انہوں نے اس بارے ميں بتاتے ہوئے کہا:’’يہ سن 2000 کے موسم بہار کی بات ہے۔ اس وقت مجھے يہاں آئے ہوئے صرف چھ دن ہوئے تھے۔ تب ميں نے ايک جرمن شہر مارل اور ترکی سے آئے ہوئے ايک گروپ کے لئے گائیڈ کے فرائض انجام دئےتھے۔ اس گروپ نے آخر ميں شکريے کے طور پر مجھے قرآن اور سر ڈھانپنے کا رومال تحفے ميں ديا تھا۔‘‘

Fathi Moschee wird eingeweiht

جرمنی میں ترک مسلمانوں کی بڑی اکثریت آباد ہےشاید یہی وجہ ہے کہ یہاں مساجد کے طرز تعمیر میں ترک اثرات نمایاں دکھائی دیتے ہیں

تاہم سابرينا سر پرباندھنے کا يہ رومال استعمال نہيں کرتيں بلکہ ان کا اصرار ہے کہ وہ عيسائی ہی رہنا چاہتی ہيں۔

شروع ميں مسجد ميں روزانہ چھ مرتبہ گائیڈ کی ضرورت پڑتی تھی ليکن اب ايسا ہفتے ميں صرف دو بار ہوتا ہے۔ اب سابرينا تعليمی شعبے کی ذمہ دار زہرہ يلماز کے ساتھ مل کر بين المذاہبی مکالمت کے نئے طريقے وضع کرنے کی کوشش کررہی ہیں۔

زہرہ يلماز نے کئی سال پہلے مسيحيت کی تعليم حاصل کی تھی۔ وہ سابرينا کوايک روشن خيال عيسائی سمجھتی ہيں۔ انہوں نے کہا:’’ہم مذہب سے زيادہ اس بات کو ديکھتے ہيں کہ کون ہمارے نظريات کی نمائندگی کرتا ہے۔ کون مکالمت کا حامی ہے اور اس کے لئے کوشش کرتا ہے۔ اس کے لئے ہميں سابرينا کی شکل ميں ايک بہت اچھی خاتون مل گئی ہيں۔ ہميں ايسے مزيد لوگوں کی ضرورت ہے۔ يہ ہمارے مشترکہ مستقبل کے لئے بنيادی شرط ہے۔‘‘

شہر ڈيوزبرگ کے علاقے Marxloh ميں واقع اس مسجد کو ديکھنے کے لئے اب بھی لوگ آتے ہیں۔ اس بين المذاہبی ماحول ميں کرسٹين سابرينا خوب کھپتی ہيں۔

ڈيوزبرگ کی نائب مئرکرسٹين بيکر نے کہا کہ يہاں کی خاص بات يہ ہے کہ اس مسجد نے ہميشہ کليساء اورعوام کے ساتھھ بات چيت کے راستے ڈھونڈے ہيں۔ ميرے خيال میں اگر لوگوں کو پہلے ہی سے مطلع کيا جائے اور وضاحت کردی جائے تو پھرمسجد کے بارے ميں غلط فہمياں اورخوف پيدا نہيں ہوسکتا۔

DW.COM