جرمنی کی دریائی گزرگاہیں | جرمنی اور جرمن | DW | 25.04.2013
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

جرمنی اور جرمن

جرمنی کی دریائی گزرگاہیں

جرمنی کے دریاؤں میں ماہی گیر کشتیاں، سیر وسیاحت کے چھوٹے جہاز اور مال بردار جہاز رواں دواں رہتے ہیں۔ یہاں کے آبی راستوں کی مجموعی لمبائی تقریباً سات ہزار کلومیٹر ہے۔

default

ان دریاؤں میں سیاح بحری سفر کر کے قدرتی مناظر سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔کچھ لوگ چھٹیاں منا نے کے لئے خاص طور دریائی سفر اختیار کرتے ہیں۔ بعض کے خیال میں یہ ایک اکتا دینے والا کام  ہے۔ حا لا نکہ ایسا نہیں ہے۔ سفر کے دوران جہاز کی بالا ئی منزل سے گرد وپیش پر نگاہ دوڑائی جائے تو قدرتی مناظر دیکھ کر انسان کی ساری اکتاہٹ دور ہو جا تی ہے۔

چند دن کی سیر و تفریح کے لئے کئی طرح کی سفری سہولتیں موجود ہیں۔ رائن ، ویزر، ڈنیوب یا موزل، کسی بھی دریا میں سفر کیا جا سکتا ہے۔

شاعروں اور مصوروں کا دریا

دریائے رائن جرمنی کا مشہور و معروف دریا ہے۔ اس کے بارے میں اب تک بہت کچھ لکھا جاچکا ہے۔ انیسویں صدی کے رومانوی شاعر اور مصور دریا کے اس مغربی حصے کی طرف متوجہ ہوئے جہاں رائن، پہاڑی علاقے کو کاٹ کر گزرتا ہے۔ یہاں کی خوبصورت وادیوں، پہاڑوں اور بل کھاتے دریا نے شاعروں اور مصورں کو نئی تحریک بخشی۔ مثال کے طور پر جرمن شاعر ہائنرِش ہائنے نے اپنی مشہور ومعروف نظموں میں سے ایک کو لورالائی کی چٹانوں سے منسوب کیا۔ رائن کے نشیبی علاقے کا سفرخاصا رومان پرور ثابت ہو سکتا ہے۔

Raimund Pruem Winzer

دریائے موزل کے کنارے انگور کے باغ کا مالک ایک جرمن شہری

رومانوی قصوں کے نشانات

جو سیاح جرمنی کی قدیم تاریخ اور ثقافت میں دلچسپی رکھتے ہیں ان کے لئے دریا ئے ڈینیوب میں سیاحتی کشتی کا سفر بہت موزوں رہے گا۔ یورپ کا یہ دوسرا سب سے لمبا دریا تاریخی لحاظ  سے بےحد اہمیت رکھتا ہے۔ دریائے ڈینیوب تاریخی خزائن سے مالامال ہے۔ دریائی سفر کے دوران رومن دور کے گہرے نقوش بھی یہاں دیکھے جا سکتے ہیں۔

دریائے ڈنیوب قرونِ وسطیٰ کے دور کے شہر ریگن برگ کے قریب سے بہتا ہوا، جرمن سرحد عبور کر کے ویانا او بوداپسٹ کا رخ کرتا ہے۔ دریا ئی سفر کے دوران قدیم دور کے قلعے، محلات اور انگور کے باغ دیکھے جاسکتے ہیں۔

قدرتی حسن اور ثقافت

دریائے اوڈر جرمنی کے بالکل مشرق سے بہتا ہوا پولینڈ کی سرحد تک جا پہنچتا ہے۔ دریا کے سفر کے دوران سیاح  میرکشے شوائس جیسے قدرتی پارکوں اور اوڈر برخ کے گھاس پوش دلدلی علا قے سے گزرتے ہیں۔

Blick auf den Rhein vom Siebengebirge

دریائے رائن کا ایک منظر

اگر سیاحوں کے پاس کافی وقت ہو تو پھر ماگڈے برگ سے پراگ تک کے سفر کا انتخا ب بھی اچھا رہے گا۔ ایلبےجنوب مشرقی اور شمال مشرقی یورپ کے درمیان بہنے والا اہم ترین دریا ہے، جو ہزار کلومیٹر سے بھی زیادہ لمبا ہے۔ نہ صرف  تعمیراتی فن کے حوالے سے مشہور شہر ڈیساؤ اور عیسائی مصلح  مارٹن لوتھرکا شہر وٹن برگ، بلکہ چینی کے ظروف کے حوالے سے مشہور جرمن شہرمائسن، اور صوبہ سیکسنی کا درالحکومت ڈریزڈن بھی اسی دریا پر واقع  ہیں۔

لوک کہانیوں کا دریا ویزر

بہت سی جرمن لوک کہانیاں اور قصے دریائے ویزر سے منسوب ہیں، جو شمالی جرمنی کے علا قوں سےگزرتا ہے۔ بریمن شہر بھی اسی دریا پر واقع  ہے جہاں چار مختلف جانوروں پر مشتمل افسانوی میوزک گروپ کا مجسمہ دیکھا جا سکتا ہے۔ دریا کے بالائی حصے سےگزرتے ہوئے بچوں کی کہانیوں کے ’’پیڈ پائپر‘‘جیسے افسانوی کردار نظروں کے سامنے گھومنے لگتے ہیں۔

ادارت : شادی خان سیف

DW.COM