1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جرمنی کی داخلی و خارجی سیاست

جرمن وزير خارجہ گِیڈو ويسٹر ويلے نے ايک ريڈيو انٹرويو ميں جرمنی کی داخلی سياست کےعلاوہ افغانستان کے بارے ميں بھی اپنےخيالات کا اظہار کيا ہے۔

default

جرمن چانسلر میرکل ، وزیر خارجہ ویسٹر ویلے کے ہمراہ

جرمن وزيرخارجہ گيڈوويسٹر ويلے نے ريڈيو ڈوئچلانڈ فُنک کےساتھ اپنےایک انٹرویو ميں کہا کہ اس ماہ کے آخر ميں لندن ميں مجوزہ بین الاقوامی افغانستان کانفرنس ميں ايک وسيع سياسی ايجنڈا زیرِ بحث لایا جائے گا۔انہوں نے کہا: ’’ميں نےاس بحث ميں پانچ نکات شامل کئے ہيں اور ساتھی ممالک سے اس بارے ميں بات چيت بھی کی ہے۔ پہلے تو يہ کہ يہ سلامتی کا معاملہ ہے ليکن يہ حکومت کی کارکردگی کو بہتر بنانے کاسوال بھی ہے يعنی کرپشن کا مقابلہ۔ تيسرے يہ کہ مخالفين ميں سے ان عناصر کو ساتھ ملا ليا جائے، جو ہمارا ساتھ دينے پر آمادہ ہوں۔ چوتھے يہ کہ افغانستان کی تعمير نو کی جائے اور وہاں اقتصادی ترقی ہو کيونکہ اچھی معاشی حالت کے بغير طالبان کے ساتھ جا ملنے والوں ميں اضافہ ہو گا۔ پانچواں نکتہ يہ ہے کہ علاقائی تعاون ہو کيونکہ افغانستان کی صورتحال سے واقف ہر شخص يہ جانتا ہے کہ وہاں مسائل کو سرحد پر واقع علاقوں پر پوری نظررکھے بغير اور ہمسايوں کےتعاون کے بغيرحل نہيں کيا جا سکتا۔‘‘

جرمن وزير خارجہ ويسٹر ويلے نے اپنے انٹرويو ميں يہ بھی کہا کہ وہ سياسی مسائل پر بحث سے قبل افغانستان ميں جرمن فوجی دستوں ميں اضافے پر بحث کو صحيح نہيں سمجھتے اور وہ لندن کی افغانستان کانفرنس کو فوج ميں اضافے کی کانفرنس بنانے کے حق ميں نہيں ہيں۔ انہوں نے کہا کہ جرمن فوجيوں کی تعداد حال ہی ميں 3500 سے بڑھا کر 4500 کردی گئی ہے۔

Bundestagsplenum

جرمن پارلیمان، ایک سیشن کے دوران

انہوں نے کہا: ’’ افغانستان ميں ہم بہت سرگرم ہيں۔ ہم افغان پوليس کی تربيت ميں بھی زيادہ حصہ لينا چاہتے ہيں۔ اگر ہم اگلے چار برسوں ميں اپنے فوجی افغانستان سے واپس لانا چاہتے ہيں، تو ہميں ملک کی سلامتی کی ذمے داری خود افغانوں کو سونپنے کا منصوبہ تيار کرنا ہوگا۔ ہم اس کا آغاز لندن کی کانفرنس ہی ميں کرنا چاہتے ہيں تاکہ اسی سال سے ايک عبوری مرحلہ شروع ہو جائے، جس کے اختتام پر افغان خود اپنے ملک کی سلامتی کی ذمے داری سنبھال سکيں گے اور ہم اپنے فوجی واپس بلا سکيں گے۔ ليکن پہلے سول تعميرِ نو کی ضرورت ہے، جس کے تحفظ کے لئے فوج لازمی ہے۔ سب سے بڑھ کر ضروری يہ ہے کہ افغانستان سے ہم وسطی يورپ والوں کے لئے دہشت گردی کا کوئی خطرہ پيدا نہ ہوسکے۔‘‘

ويسٹر ويلے نے کہا کہ کابل کے علاقے کی ذمے داری خود افغانوں کو سونپی جا چکی ہے۔ بعض افغان علاقوں ميں صورتحال خراب ليکن بعض ميں اب پہلے سے بہتر ہے۔ ہم اپنی فوج کو ہميشہ کے لئے افغانستان ميں نہيں رکھنا چاہتے بلکہ مرحلے وار طور پر ذمے داری خود افغانوں کو منتقل کرنا چاہتے ہيں۔ جرمن وزير خارجہ نے کہا کہ افغانستان کے کئی اضلاع ميں صورتحال اتنی بہتر ہو چکی ہے کہ افغانوں کو ذمے داری منتقل کرنے کی بحث اس سال کے دوران ہی شروع ہو سکتی ہے اور جرمنی کے بہت سے اتحادی بھی ايسا ہی سمجھتے ہيں۔

رپورٹ : شہاب احمد صدیقی

ادارت: امجد علی