1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

جرمنی کی جنوبی ریاست باویریا کی سیاسی صورتحال

گزشتہ اتوار کو جرمنی کی جنوبی ریا ست باویریا کی قدامت پسند جماعت کرسچین سوشل یونین کو بد ترین ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ۔ یہ جماعت چانسلز انگیلا میرکل کی سی ڈی یو کی ساتھی جماعت ہے۔

default

کرسچین سوشل یونین کے رہنما ارون ہوبر جو پارٹی کی ناکامی کے بعد پارٹی سربواہ کے عہدے سے دتبرداری کا اعلان کر چکے ہیں

جنوبی صوبے باویریا کے حالیہ انتخابات میں کرسچین سو شل یونین کی ریکارڈ خراب کارکردگی کے بعد اِس جماعت کے چیئر مین ایروِن ہوبر نے اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا ہے۔ اُنہوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ پچیس اکتوبر کو اپنے عہدے سے دستبردار ہو جائیں گے۔’’ CSU کو مشکل انتخابی نتائج سے نمٹنا ہے۔ میرے لئے یہ اہم ہے کہ یہ سب ایک منظم اور بہتر طریقے سے ہو۔ چنانچہ میری تجویز پر پارٹی کی مجلس عامہ نے پچیس اکتوبر کو میونخ میں ایک خصوصی پارٹی کانگریس منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ تب تک میں اپنی ذمہ داری نبھاتا رہوں گا اور اس اجلاس میں پارٹی چیئرمین کا عہدہ خالی کردوں گا۔ ‘‘

ارون ہوبر گزشتہ تیرہ ماہ سے CSU کے چیئر مین چلے آ رہے تھے۔ پارٹی ذرائع کے مطابقCSU کے عہدیداران یہ فیصلہ کر چکے ہیں کہ ارون ہوبر کی جگہ ، موجودہ نائب چیئرمین ہورسٹ زے ہوفرکو پارٹی کا نیا سربراہ منتخب کر لیا جائے گا۔ انسٹھ سالہ زے ہو فر دو ہزار پانچ ء سے زراعت اور صارفین سے متعلقہ امور کے وفاقی وزیر ہیں۔ باویریا کے قصبے انگول شٹاڈ سے تعلق رکھنے والے زے ہوفر ایک خوش اخلاق سیاست دان کے طور پر جانے جاتے ہیں اور پارٹی انہیں اپنا انتخابی اثاثہ سمجھتی ہے۔ ہورسٹ زے ہوفر اس فیصلے کے بارے میں کہتے ہیں: ’’ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ کرسچن سوشل یونین کی انفرادی حیثیت اور اُس تاریخی کامیابی کو مستحکم بنایا جائے ، جو اس جماعت کو پچھلے پانچ عشروں میں حاصل رہی ہے۔‘‘

Huber, Merkel und Beckstein nach Bayrischer Landtagswahl

باویریا کے وزیر اعلی گُنتھر بیک شٹائن نے ھبی اپنے استعفی کا اعلان کر دیا ہے۔ اس تصویر میں وہ چانسلر اینگلا میرکل اور سی ایس یو کے چیئر مین ارون ہوبر کے ساتھ کھڑے ہیں

پارٹی کے ترجمان کے مطابق جنرل سیکریٹری کرسٹینا ہاڈر تھاؤعر بھی جلد ہی اپنےعہدے سے استعفٰی دے دیں گی۔ CSU کو حالیہ صوبائی انتخابات میں 43 فی صد ووٹ ملے تھے جو کہ پہلے کے مقابلے میں تیرہ فی صد کم ہیں۔ پارٹی کی انتخابی تاریخ میں یہ اب تک سب سے برے نتائج ہیں ۔ ماہرین کی رائے میں اِن نتائج کا اثر اگلے برس ہونے والے قومی انتخابات پر بھی پڑ سکتا ہے۔ چانسلر انگیلا میرکل کی وفاق میں مخلوط حکومت کے لئے بھی یہ نتائج ایک دھچکا تصور کئے جا رہے ہیں۔ وفاق میں میرکل کی ایک اور اتحادی، بائیں بازو کی سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کو بھی باویریا کے انتخابات میں برے نتائج سے دو چار ہونا پڑا ہے۔

پانچ سال قبل ہونے والے انتخابات میں سی ایس یو کو تقریباً ساٹھ فی صد ووٹ ملے تھے اور پارٹی نے دو تہائی اکثریت کے ساتھ صوبے میں حکومت بنائی تھی۔ پارٹی چیئرمین ہوبر اور وزیر اعلی بیک شٹائن نے کئی پالیسیوں کے سلسلے میں فاش غلطیاں کی تھیں۔ کہا جا رہا ہے کہ یہ انتخابی نتائج تعلیمی شعبے میں اِس جماعت کے متنازعہ اقدامات کے ساتھ ساتھ سگریٹ نوشی پر پابندی جیسے فیصلوں پر عوامی رد عمل کے عکاس ہیں۔