1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

 جرمنی کی ترکی کو دہشت گردی کے خلاف  تعاون کی پیشکش

جرمنی اور ترکی کے باہمی روابط آج کل بہت اچھے نہیں ہیں۔ برلن حکومت کو ترکی میں جہوریت کی تنزلی پر تشویش ہے۔ استنبول میں دہشت گردی کے واقعات کے تناظر میں  جرمنی نے ترکی کو تعاون کی پیشکش کی ہے۔

ایسا دکھائی دیتا ہے کہ جیسے ترک شہر استنبول میں ہوئے دوہرے بم دھماکوں کے بعد ترکی اور جرمنی کے مابین اختلاف ختم ہو گئے ہوں۔ جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے ترک صدر رجب طیب ایردوآن کو فون کیا اور ان سے انسانی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کیا۔ میرکل نے اس موقع پر ترکی کو دہشت گردی کے خلاف جاری کارروائیوں میں قریبی تعاون  کی پیشکش کی ہے۔ برلن حکومت کے ترجمان نے بتایا،’’میرکل نے انہیں انسانیت پر حملے قرار دیا‘‘۔

چانسلر میرکل کے علاوہ وزیر دفاع اُرزولا فان ڈیئر لائن اور وزیر خارجہ فرانک والٹر شٹائن مائر نے ایک مشترکہ بیان میں استنبول حملوں کی مذمت کی ہے،’’ہم ان دہشت گردانہ کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کر تے ہیں اور اپنے ترک ساتھیوں کی طرح افسردہ ہیں۔‘‘

Türkei Istanbul nach den Anschlägen

استنبول میں ہوئے دوہرے بم دھماکوں میں 38 افراد ہلاک ہوئے جن میں تیس پولیس اہلکار بھی  شامل ہیں

اسی طرح جرمن صدر یوآخم گاؤک کے بقول وہ صدمے کا شکار ہیں اور انہوں نے ترک عوام سے ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔ ساتھ ہی جرمن وزارت خارجہ نے استنبول میں موجود تمام جرمن شہریوں سے ہوٹلوں اور گھروں میں رہنے کے لیے کہا ہے۔

ہفتے کی شب استنبول میں ہوئے دوہرے بم دھماکوں میں 38 افراد ہلاک ہوئے جن میں تیس پولیس اہلکار بھی  شامل ہیں۔ اس واقعے میں زخمیوں کی تعداد ڈیڑھ سو سے زائد ہے۔ ان حملوں کی ذمہ داری  فریڈم فیلکن کردستان نامی ایک گروپ نے قبول کر لی ہے۔ انقرہ حکومت اسے کالعدم کردستان ورکرز پارٹی کے (پی کے کے) سے الگ ہونے والا ایک گروپ قرار دیتی ہے۔

استنبول حملوں کے بعد ملکی صدر ایردوآن نے کہا،’’میری قوم اور میرے لوگ محفوظ ہونے چاہئیں، ہم دہشت گردی کی لعنت کو جڑ سے ختم کر کے ہی دم لیں گے‘‘۔ ایردوآن ماضی میں برلن حکومت پر کُرد انتہا پسند تنظیموں کے خلاف مؤثر کارروائی نہ کرنے کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں۔