1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

جرمنی کی اسلامائزیشن کا کوئی خطرہ نہیں، جرمن کلیسائی رہنما

جرمنی میں پروٹسٹنٹ کلیسا کی قومی کونسل کے سربراہ نے کہا ہے کہ مہاجرین کے بحران کی وجہ سے جرمنی کی اسلامائزیشن کا کوئی خطرہ نہیں اور لاکھوں نئے تارکین وطن کی آمد سے ملک کے مذہبی منظر نامے میں کوئی بڑی تبدیلی متوقع نہیں۔

جنوبی جرمن شہر میونخ سے پیر پانچ اکتوبر کو ملنے والی نیوز ایجنسی کے این اے کی رپورٹوں کے مطابق جرمن پروٹسٹنٹ چرچ کونسل کے سربراہ ہائنرش بیڈفورڈ شٹروہم نے آج شائع ہونے والے اپنے ایک انٹرویو میں کہا، ’’جرمنی میں اس وقت مسیحی باشندوں کی تعداد 50 ملین کے قریب ہے اور اس کے مقابلے میں مسلمانوں کی مجموعی آبادی صرف تین سے چار ملین تک ہے۔‘‘

ہائنرش بیڈفورڈ شٹروہم نے جرمن بشپس کانفرنس کے سربراہ، کارڈینل رائن ہارڈ مارکس کے ساتھ مل کر اخبار زُوڈ ڈوئچے سائٹُنگ کو مشترکہ طور پر دیے گئے اپنے انٹرویو میں کہا کہ بہت سے ’نئے مہاجرین، جن میں اکثریت مسلمانوں کی ہے، کی آمد کے بعد جرمنی میں مسلمانوں کی تعداد شاید چار ملین سے بڑھ کر پانچ ملین ہو جائے گی‘۔

جرمن پروٹسٹنٹ چرچ کونسل کے سربراہ نے مزید کہا، ’’ان حالات میں مستقبل قریب میں جرمن کی اسلامائزیشن کے ممکنہ خطرات کا اظہار ایسے خدشات ہیں، جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔‘‘

میونخ سے چھپنے ہونے والے اخبار ’زُوڈ ڈوئچے ساٹُنگ‘ میں آج شائع ہونے والے اس مشترکہ انٹرویو میں جرمن بشپس کونسل کے سربراہ کارڈینل رائن ہارڈ مارکس نے کہا کہ کیتھولک اور پروٹسٹنٹ کلیساؤں کو لازمی طور پر اپنی شناخت کا اظہار بہتر طور پر کرنا ہو گا۔

انہوں نے کہا، ’’ہم مسیحیوں کو بہرصورت دوبارہ یہ بات سیکھنا ہو گی کہ اپنے عقیدے کے بارے میں کھل کر بات کر سکیں۔ ہمیں دوبارہ اپنے عقیدے کی اہمیت کا احساس ہونا چاہیے۔ صرف اسی صورت میں ہم بہتر طور پر دوسرے مذاہب کے ساتھ تعمیری رابطوں اور تبادلہ خیال کو یقینی بنا سکتے ہیں۔‘‘

Pro Deutschland Demonstrationen in Berlin

گزشتہ چند ماہ کے دوران انتہائی دائیں بازو کے مظاہرین کی طرف سے جرمن معاشرے کی مبینہ ’اسلامائزیشن‘ کے خلاف کئی مرتبہ احتجاجی مظاہرے بھی کیے جا چکے ہیں

اپنے اس انٹرویو میں جرمن کلیساؤں کے ان دونوں اہم ترین نمائندوں نے یہ بھی کہا کہ اگر انہیں کسی بات پر تشویش ہے تو وہ جرمن معاشرے میں جزوی طور پر پائی جانے والی اجانب دشمنی اور غیر ملکیوں سے نفرت کی سوچ ہے۔

انہوں نے کہا، ’’اجانب دشمنی یا غیر ملکیوں کے خلاف نفرت کے جذبات ہمیشہ اسی وقت زیادہ ہوتے ہیں، جب انسانوں کے مختلف (نسلی اور مذہبی) گروپوں کے مابین رابطے کم ہو جاتے ہیں۔

ہائنرش بریڈفورڈ شٹروہم اور کارڈینل رائن ہارڈ مارکس نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ جرمنی میں بہت بڑی تعداد میں مہاجرین کی آمد کے تناظر میں اس بات کی ضرورت پہلے کے مقابلے میں آج کہیں زیادہ ہے کہ مختلف نسلی اور مذہبی گروپوں کے لوگ آپس کے رابطوں کو بڑھاتے ہوئے ایک دوسرے کو جاننے اور سمجھنے کی کوشش کریں۔

DW.COM