1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

جرمنی: کتنے مہاجرین کو لازماﹰ ملک بدر کیا جائے گا؟

جرمنی میں غیر ملکیوں سے متعلق وفاقی رجسٹر (اے زیڈ آر) کے اعداد و شمار کے مطابق سن 2016 کے آخر تک دو لاکھ سات ہزار غیر ملکی ایسے تھے جنہیں لازمی طور پر جرمنی سے ملک بدر کیا جانا ہے۔

تاہم جرمنی کے وفاقی دفتر برائے مہاجرت اور ترک وطن (بی اے ایم ایف) کے سابق سربراہ اور مہاجرین کے امور سے متعلق وفاقی جرمن کمشنر فرانک یُرگن وائزے ان اعداد و شمار سے متفق نہیں ہیں۔

’جو جتنی جلدی واپس جائے گا، مراعات بھی اتنی زیادہ ملیں گی‘

جرمنی میں پناہ کی تمام درخواستوں پر فیصلے چند ماہ کے اندر

موقر جرمن جریدے ’ڈیئر اشپیگل‘ نے فرانک یُرگن وائزے کے دفتر کی جانب سے ایک سوال کے تحریری جواب کے حوالے سے لکھا ہے کہ ایسے تارکین وطن کے بارے میں، جنہیں جرمنی سے لازماﹰ ملک بدر کیا جانا ہے، اے زیڈ آر کے جاری کردہ اعداد و شمار ’غیر معتبر‘ ہیں۔

رپورٹوں کے مطابق غیر ملکیوں سے متعلق وفاقی رجسٹر کے اعداد و شمار میں جن دو لاکھ سے زائد افراد کو شامل کیا گیا ہے ان میں  تقریباً چالیس ہزار سے ایسے تارکین وطن  کا اندراج بھی ہے جن کی اب تک جرمنی میں جمع کرائی گئی سیاسی پناہ کی درخواستوں پر کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔

جرمنی میں بائیں بازو کی جماعت کی جانب سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزارت داخلہ نے بتایا تھا کہ اے زیڈ آر کے اعداد و شمار میں نصف تعداد ایسے مہاجرین کی ہے جن کی جرمنی میں جمع کرائی گئی سیاسی پناہ کی درخواستیں مسترد کی جا چکی ہیں جس کے باعث انہیں لازماﹰ ملک بدر کیا جانا ہے۔ جب کہ باقی نصف تعداد ایسے غیر ملکیوں کی ہے جن کے جرمن ویزے کی میعاد ختم ہونے کے باوجود وہ ابھی تک ملک میں موجود ہیں۔

اس سے پہلے بھی جرمن ادارے ایسے ہی اعداد و شمار بتا چکے ہیں، جن میں جرمنی سے لازمی طور پر ملک بدر کیے جانے والے مہاجرین کی تعداد حقیقی تعداد سے کہیں زیادہ بتائی گئی تھی۔

بائیں بازو کی جرمن خاتون سیاست دان اُولا یلپکے نے اشپیگل سے کی گئی اپنی ایک گفت گو میں غلط اعداد و شمار جاری کرنے پر وفاقی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے اعداد و شمار ’مہاجرین کو ملک بدر کیے جانے کے لیے رائے عامہ ہموار کرنے‘ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

’یورپ میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ویزے نہیں دیے جائیں گے‘

DW.COM