1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

’جرمنی کا مرکزی ثقافتی دھارا‘ کیا ہے؟

جرمنی آنے والے مہاجرین اور تارکین وطن کے ملک میں سماجی انضمام سے متعلق جاری بحث میں کئی اہم سیاست دان ’جرمنی کا مرکزی ثقافتی دھارا‘ کی اصطلاح استعمال کر رہے ہیں۔ یہ اصطلاح کیوں استعمال ہو رہی ہے اور اس کا مطلب کیا ہے؟

جرمنی کے مرکزی ثقافتی دھارے کے بارے میں بحث کا آغاز اس صدی کے آغاز میں فریڈرش میرز نامی ایک سیاست دان نے کیا تھا جن کا تعلق جرمن چانسلر انگیلا میرکل کی سیاسی جماعت سی ڈی یو سے ہے۔ یہ اصطلاع زراعت کے شعبے سے مستعار لی گئی۔ زراعت میں یہ اصطلاح ان فصلوں کے بارے میں استعمال کی جاتی ہے، جن کی کاشت کسی خاص خطے میں موزوں ہوتی ہے۔

’یورپ میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ویزے نہیں دیے جائیں گے‘

تاہم اس وقت میرز نے اس اصطلاع کو غیر ملکیوں کے سماجی انضمام کے تناظر میں استعمال کیا تھا جو کہ عملی طور پر کثیر الثقافتی معاشرے کے برعکس ایک زاویہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جرمنی میں آباد غیر ملکیوں کو یہاں کی ’روشن خیال ثقافت‘ اپنانا چاہیے۔

میرز کے مطابق غیر ملکیوں کو جرمن آئین کے بارے معلومات حاصل ہونا چاہییں، انہیں جرمن زبان اور اہم ملکی اقدار بھی سیکھنا چاہییں۔ لیکن جلد ہی یہ بحث گرین پارٹی اور انتہائی دائیں بازو کی سوچ رکھنے والے سیاست دانوں کے مابین جھگڑے کی صورت اختیار کر گئی۔

سنجیدہ بحث یا انتخابی نعرہ؟

آج کل دائیں بازو کی عوامیت پسند سیاسی جماعت آلٹرنیٹیو فار جرمنی (اے ایف ڈی) ہی مرکزی ثقافتی دھارے کی سخت تشریح کرتی دکھائی دیتی ہے۔ تاہم میرکل کی سیاسی جماعت سی ڈی یو اور اتحادی جماعت سی ایس یو نے بھی ملکی ثقافت کے اہم نکات کو اپنے پارٹی ایجنڈے میں شامل کر رکھا ہے۔ اگرچہ ان جماعتوں نے اس اصطلاح کو علامتی طور پر ہی اپنے ایجنڈے میں شامل کر رکھا ہے لیکن بعض اوقات سیاسی مفاد کی خاطر اس پر کافی زور بھی دیا جاتا ہے۔

مثال کے طور پر وفاقی جرمن ریاست سیکسنی میں گزشتہ برس ہونے والے انتخابات میں سی ڈی یو نے تارکین وطن کی جرمنی مرکزی ثقافتی دھارے میں شمولیت پر کافی زور دیا تھا۔ اسی لیے ناقدین کا کہنا ہے کہ اس اصطلاح اور سوچ کو ملکی سیاسی جماعتیں عوامی حمایت حاصل کرنے اور انتخابات کے دوران زیادہ سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے کے لیے استعمال کر رہی ہیں۔

یورپ کا مرکزی ثقافتی دھارا کیا ہے؟

سیاسیات میں یہ اصطلاح شام سے تعلق رکھنے والے ایک اسلامی امور کے ماہر باسم طبی نے 1988 میں استعمال کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ یورپ کو اپنے مرکزی ثقافتی دھارے کو مضبوط بنانا چاہیے۔ انہوں نے انسانی حقوق، رواداری ،برداشت، مذہب اور سیاست میں تفریق کرنے کو یورپی ثقافت کے اہم نکات قرار دیا تھا۔ بعد ازاں کئی سیاست دانوں اور مفکرین نے بھی جرمن اور یورپی ثقافت کے اہم نکات کی نشاندہی کرنے کی کوشش کی۔

یونان میں چند پیسوں کی خاطر جسم بیچتے پاکستانی مہاجر بچے

DW.COM