1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جرمنی کا افغان مشن جاری رہے گا: انگیلا میرکل

جرمن چانسلر انگیلا ميرکل نے جمعرات کو افغانستان ميں مزيد جرمن فوجيوں کی ہلاکت پر غم و افسوس ظاہر کیا ہے، لیکن انہوں نے يہ بھی واضح کرديا ہے کہ جرمن فوج کا افغان مشن جاری رکھا جائے گا۔

default

جرمن چانسلرمیرکل افغانستان میں تعینات جرمن فوجیوں کے ہمراہ

افغانستان میں تین جرمن فوجيوں کے مارے جانے کے بعد، دو ہفتوں سے بھی کم مدت ميں مزيد چار فوجيوں کی ہلاکت کے باوجود جرمن چانسلر آنگيلا ميرکل نے کہا کہ افغانستان ميں جرمن فوجی کارروائی جاری رکھی جائے گی۔ اس حوالے سے میرکل نے امریکی ریاست کیلیفورنیا میں کہا:’’ميں يہ کہنا چاہتی ہوں کہ ميں بہت سوچ سمجھھ کر اس جرمن مشن کی حمايت کررہی ہوں تاکہ افغانستان کواس قدر مستحکم بنا ديا جائے کہ وہ خود اپنی حفاظت کرسکے۔‘‘

Deutsche Soldaten in Afghanistan

جرمن فوجی کابل میں ناشتے کی تیاری کرتے ہوئے

جرمن چانسلر نے کہا کہ وہ اس کا احترام کرتی ہيں کہ جرمنی اور امريکہ ميں بہت سے لوگوں کو افغانستان ميں فوجی کارروائی کے صحيح ہونے پر شک و شبہ ہے، لیکن ليکن اُنہوں نے کہا کہ يہ مشن ’’ہماری آزادی اور سلامتی کی ضمانت‘‘ بھی ہے۔ میرکل نے امريکہ کی مشہور سٹينفورڈ يونيورسٹی ميں تقرير کرتے ہوئے يہ بھی کہا:

’’ہميں افغانستان جيسے ملکوں، اُن کے معاشروں اور ثقافتوں، قوميتوں، قبائل اور مذاہب کے باہمی تعامل،انسانوں کے تفکرات اور تشدد پر اُس آمادگی کے اسباب کے بارے ميں کہيں زيادہ معلومات حاصل کرنے کی ضرورت ہے، جسے روکنے ميں ہميں شديد مشکلات کا سامنا ہے۔‘‘

جرمن چانسلر، پچھلے دنوں کے دوران افغانستان کے مسئلے کواپنی اولين ترجيح بنا چکی ہيں۔ اس سے پہلے وہ کچھ پس منظر ميں رہتی تھيں اور اس حوالے سے زيادہ تر ذمہ داری اُن کے وزير دفاع کارل تھیوڈور سو گوٹن برگ اُٹھاتے تھے۔

Deutsche Soldaten in Afghanistan

جرمن فوجی افغان صوبے قندوز میں

اب وہ اس تنازعے کو اپنی ترجيح بنانے کے ساتھ ايک بڑا سياسی خطرہ بھی مول لے رہی ہيں کيونکہ افغانستان ميں جرمن فوجی مشن جرمن عوام ميں بہت غير مقبول ہے۔ جرمنی کے ايک معروف ہفت روزہ Stern کے ايک حاليہ سروے کے مطابق 62 فیصد رائے دہنگان جرمن فوج کی افغانستان سے واپسی کی حمايت کرتے ہیں۔ اس سروے میں 1004 جرمنوں سے رائے پوچھی گئی تھی۔

جرمن حکومت، افغانستان ميں اپنی فوج کو اب بہتر سازو سامان فراہم کرنا چاہتی ہے۔ وزير دفاع گوٹن برگ سڑکوں کے کنارے نصب کئے گئے بموں اور دوسرے حملوں ميں اضافے کے پيش نظر کئی سو نئی بکتر بند گاڑيوں کا مطالبہ کررہے ہيں۔ جمعرات کو ہلاک ہونے والے جرمن فوجی، ’ایگل 4‘ ساخت کی بکتر بند گاڑی کے نيچے پھٹنے والے بم کا نشانہ بنے تھے۔

USA Deutschland Angela Merkel in Kalifornien Silicon Valley

جرمن چانسلرمیرکل کیلیفورنیا میں

افغانستان ميں پچھلے چند دنوں کے اندر سات جرمن فوجيوں کی ہلاکت کے بعد 50 جرمن تنظيموں پر مشتمل، تعاون برائے امن نامی گروپ کے افغان امور کے ماہر شٹائن بکر نے کہا کہ جرمن حکومت کو امريکی جنگی کارروائی سے متعلق تنقيدی نقطء نظراختيار کرنا چاہیے، بصورت دیگر جرمنی کے لئے حالات اس سے بھی کہيں زيادہ خراب ہوسکتے ہيں۔ اُنہوں نے کہا کہ پچھلے سال سے جرمن فوج طالبان کے خلاف زيادہ جارحانہ طرزعمل کا مظاہرہ کر رہی ہے۔’’افغان فوج اور پوليس کو کيمپوں ميں تربيت دينے کے بجائے اب جرمن فوجی افغان فوجيوں کے ساتھ گشت پر نکلتے ہيں، جس کے دوران لڑائی ہوتی ہے اور لڑائی ميں ہلاک يا زخمی ہونا قدرتی بات ہے۔‘‘ شٹائن بکر نے مزید کہا کہ افغانستان کے قومی امن جرگے ميں، جو قبائلی نمائندوں پر مشتمل ہے، جنگ بند کرنے پر وسيع آمادگی پائی جاتی ہے۔ يہ انتہائی ضروری ہو گيا ہے کہ مزيد جرمن فوجيوں کی ہلاکت سے پہلے ہی قيام امن کے لئے ايک حل اور جرمن فوج کی واپسی کے لئے بات چيت کا آغاز کيا جائے۔

رپورٹ: شہاب احمد صدیقی

ادارت: گوہر نذیر گیلانی

DW.COM