1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جرمنی کا آئندہ چانسلر میں ہوں گا، مارٹن شلس

جرمن چانسلر انگیلا میرکل کے مرکزی سیاسی حریف مارٹن شلس نے اصرار کیا ہے کہ ملک کے آئندہ چانسلر وہی ہوں گے۔ تاہم عوامی جائزوں کے مطابق چوبیس ستمبر کے الیکشن میں میرکل کی سیاسی جماعت کرسچن ڈیموکریٹک یونین ہی فیورٹ ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز نے جرمن اپوزیشن سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کے رہنما مارٹن شلس کے حوالے سے بتایا ہے کہ وہ آئندہ پارلیمانی انتخابات میں کامیاب ہوتے ہوئے چانسلر بننے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ انہوں نے اتوار کے دن ایک مقامی نشریاتی ادارے زیڈ ڈی ایف کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ اگرچہ عوامی جائزے ان کے حق میں نہیں ہیں لیکن اس بات کے کافی زیادہ امکانات ہیں کہ وہ اس الیکشن میں میرکل کو مات دے دیں گے۔

جرمن الیکشن، میرکل کی مقبولیت میں ’ریکارڈ اضافہ‘

میرکل نے انتخابی مہم درمیان میں کیوں چھوڑ دی؟

چانسلر میرکل کا ’امتحان سے پہلے امتحان‘

دائیں بازو کی طرف جھکاؤ رکھنے والی سوشل ڈیموکریٹک پارٹی (ایس پی ڈی) کی طرف سے چانسلر کے امیدوار شلس نے زیڈ ڈی ایف سے گفتگو میں کہا، ’’مجھے لگتا ہے کہ میری کامیابی کا امکان بہت زیادہ ہے۔‘‘

جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا وہ مخلوط حکومت کے حق میں ہیں تو انہوں نے کہا کہ اگر ان کی سرپرستی میں چانسلر میرکل کی سیاسی جماعت گرینڈ کولیشن کے لیے رضا مند ہوتی ہیں تو انہیں کوئی تحفظات نہیں ہوں گے۔

جعمے کے دن جاری کردہ عوامی جائزوں کے مطابق میرکل کے قدامت پسند اتحاد کو چالیس فیصد ووٹرز کی حمایت حاصل ہے جبکہ ایس پی ڈی کی عوامی حمایت صرف چوبیس فیصد ہے۔ میرکل چوتھی مرتبہ چانسلر شپ کے عہدے کی خاطر میدان میں اتر رہی ہیں۔

ہفتے کے دن انہوں نے اپنی انتخابی مہم کے آخری مرحلے کا آغاز کرتے ہوئے ملکی معیشت اور بے روزگاری کے خاتمے کا نعرہ لگایا تھا۔ اشٹٹ گارٹ میں ایک ریلی سے خطاب میں میرکل نے کہا کہ وہ سن دو ہزار پچیس تک بے روزگاری کی شرح انتہائی کم کرنے کی خاطر کمر بستہ ہیں۔

مہاجرین کے حالیہ بحران کی وجہ سے میرکل کی عوامی مقبولیت میں کمی واقع ہوئی تھی تاہم حالیہ کچھ عرصے سے انہیں عوامی اعتماد جیتنے میں کامیابی ملی ہے۔ اس تناظر میں کئی عوامیت پسند گروہوں نے مہاجرین کے معاملے پر میرکل کی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اپنے ووٹ بینک کو مضبوط کیا ہے۔ ان میں انتہائی دائیں بازو کی سیاسی جماعت اے ایف ڈی بھی شامل ہے۔

دوسری طرف قدامت پسند جرمن سیاست دانوں کے ساتھ ساتھ اب مارٹن شلس بھی میرکل کی مہاجر دوست پالیسی کو ہدف تنقید بنا کر عوامی حمایت میں اضافے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ایس پی ڈی کی اس نئی حکمت عملی سے میرکل کو کتنا نقصان ہو سکتا ہے، اس کا فیصلہ جرمن عوام ستمبر کے انتخابات ہی میں کریں گے۔

DW.COM

ملتے جلتے مندرجات