1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

جرمنی: ’چرچ ٹاورز کے حامی مساجد کے مینار بھی قبول کریں‘

جرمن کلیسائی رہنما کارڈینل ووئلکی نے اسلام مخالف سیاسی جماعت ’متبادل برائے جرمنی‘ کے منشور پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’جو لوگ کلیساؤں کے میناروں کے حامی ہیں، انہیں لازماً مساجد کے مینار بھی تسلیم کرنا ہوں گے‘۔

کولون سے اتوار چوبیس اپریل کو ملنے والی نیوز ایجنسی ای پی ڈی کی رپورٹوں کے مطابق کارڈینل رائنر ماریا ووئلکی جرمنی میں کیتھولک کلیسا کی اعلیٰ ترین مذہبی شخصیات میں سے ایک ہیں، جنہوں نے جرمنی میں اسلام اور مسلمانوں کے حوالے سے یہ بات آج ’ڈوم ریڈیو‘ کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہی۔

کارڈینل ووئلکی نے یہ بات اس سوال کے جواب میں کہی کہ جرمنی میں کچھ عرصہ قبل قائم کی جانے والی اور واضح طور پر اسلام مخالف جماعت ’متبادل برائے جرمنی یا اے ایف ڈی (AfD) اپنے بنیادی منشور میں یہ مطالبہ کرنے میں کس حد تک حق بجانب ہے کہ جرمنی میں مسلمانوں کی میناروں والی مساجد پر پابندی ہونی چاہیے۔

ای پی ڈی نے لکھا ہے کہ کولون کے کارڈینل ووئلکی نے اس سوال کے جواب میں نہ صرف بہت زیادہ حد تک دائیں بازو کی اس جرمن سیاسی پارٹی پر شدید تنقید کی بلکہ یہ بھی کہا، ’’جو کوئی بھی کلیساؤں کے میناروں کے لیے ’ہاں‘ کہتا ہے، اسے لازمی طور پر مسلمانوں کی مسجدوں کے میناروں کے لیے بھی ’ہاں‘ کہنا ہو گی۔‘‘

کولون کے کلیسائی ریڈیو domradio.de کے ساتھ انٹرویو میں کارڈینل Woelki کا کہنا تھا کہ اے ایف ڈی خود کو جرمنی اور جرمن عوام کے لیے ایک سیاسی متبادل تو قرار دیتی ہے لیکن یہ بہت زیادہ دائیں بازو کی ایک پاپولسٹ یا عوامیت پسند پارٹی ہے۔

Deutschland Trauerfeier für Germanwings-Opfer im Kölner Dom

کولون کے کارڈینل رائنر ماریا ووئلکی

انہوں نے کہا کہ اس پارٹی کی اعلیٰ قیادت یہ دعویٰ کرتی ہے کہ اسلام ایک سیاسی نظریے کے طور پر جرمنی کے بنیادی آئین سے ہم آہنگ ہو ہی نہیں سکتا۔ کارڈینل ووئلکی کے بقول، ایسی بات کرنا AfD کے رہنماؤں کی طرف سے دراصل بڑے عالمی مذاہب میں سے ایک (اسلام) کے بارے میں نفرت پر اکسانے والی ایسی سوچ کا اظہار ہے، جو قابل قبول نہیں ہے۔

جرمن کیتھولک چرچ کے اس سرکردہ رہنما نے واضح طور پر کہا، ’’جو کوئی بھی، جیسا کہ اے ایف ڈی کی پارٹی قیادت، مسلمانوں کے بارے میں نفرت انگیز یا ’ہر حال میں مسترد کر دینے کی سوچ‘ کا حامل ہے، اسے یہ بہرحال سمجھنا ہوگا کہ جرمنی میں مسلمانوں کی مساجد اور دیگر مذاہب کی عبادت گاہوں کو بھی ملک کے بنیادی آئین کے تحت وہی اور اتنا ہی تحفظ حاصل ہے، جتنا کہ مسیحیوں کے کلیساؤں اور ان کے ٹاورز کو۔‘‘

کارڈینل ووئلکی نے کہا کہ دو بہت اہم باتوں کو ہر کسی کو ذہن میں رکھنا ہو گا۔ پہلی یہ کہ کسی بھی انسان کے ساتھ اس کے عقیدے کی بنیاد پر نہ تو کوئی امتیازی رویہ اختیار کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی اسے کسی بھی صورت میں تعاقب کا نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

’’دوسری بات یہ کہ اسلام ایک مذہب کے طور پر جرمن میں ملک کے بنیادی آئین سے عین اتنا ہی ہم آہنگ ہے جتنا کہ مسیحیت یا یہودیت۔ اس لیے کہ جرمنی کے بنیادی آئین میں عقیدے اور مذہب کی آزادی کی جو کلیدی ضمانت دی گئی ہے، اس کا کوئی متبادل ہو ہی نہیں سکتا۔‘‘

اے ایف ڈی یا ’آلٹرنیٹیو فیور ڈوئچ لینڈ‘ ایک ایسی سیاسی جماعت ہے جو مہاجرین کے بحران اور جرمنی میں اسلام کی سب سے بڑے اقلیتی مذہب کے طور پر حیثیت کو بنیاد بنا کر نہ صرف اسلام کی مخالفت کرتی ہے بلکہ بہت بڑی تعداد میں مہاجرین کی جرمنی آمد کے بھی خلاف ہے۔

اپنے اسی موقف کے ساتھ یہ جماعت پچھلے کچھ عرصے میں کافی عوامی تائید حاصل کرنے میں کامیاب رہی ہے اور چند صوبوں میں علاقائی انتخابات کے نتیجے میں تو وہ صوبائی پارلیمانی اداروں میں بھی پہنچ گئی ہے۔

DW.COM

ملتے جلتے مندرجات