جرمنی پہنچنے والے مہاجرین میں سے سوا لاکھ سے زائد غائب | مہاجرین کا بحران | DW | 26.02.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

جرمنی پہنچنے والے مہاجرین میں سے سوا لاکھ سے زائد غائب

جرمنی پہنچنے والے رجسٹرڈ مہاجرین میں سے ہر آٹھ میں سے ایک غائب ہو چکا ہے۔ یہ خبر ایک ایسے وقت پر سامنے آئی ہے، جب جرمنی میں پناہ کے متلاشی افراد کے لیے ملکی قوانین کو سخت بنا دیا گیا ہے۔

Deutschland Flüchtlinge Tempelhof Berlin

جرمنی پہنچنے والے رجسٹرڈ مہاجرین میں سے ہر آٹھ میں سے ایک غائب ہو چکا ہے

جرمن اخبار ’زوڈ ڈوئچے سائٹنگ‘ نے وفاقی وزارت داخلہ کے اعداد وشمار کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ جرمنی پہنچنے والے ہزارہا مہاجرین اور تارکین وطن رجسٹریشن کے بعد لاپتہ ہو چکے ہیں اور ان کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں کہ وہ اس وقت کہاں ہیں۔

DW.COM

جمعہ 26 فروری کے روز اس اخبار میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں وزارت داخلہ کے پاس موجود معلومات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ گزشتہ برس جرمنی آنے والے 1.1 ملین مہاجرین میں سے تیرہ فیصد رجسٹریشن کے بعد مطلوبہ مہاجر مراکز گئے ہی نہیں تھے۔

’زوڈ ڈوئچے سائٹنگ‘ کی رپورٹ کے مطابق وفاقی جرمن پارلیمان میں اپوزیشن جماعت ’دی لِنکے‘ کے استفسار پر وزارت داخلہ نے بتایا کہ جرمنی میں ایک لاکھ تیس ہزار مہاجرین کے بارے میں کوئی معلومات نہیں ہیں کہ وہ کدھر ہیں۔

جرمن وزارت داخلہ کے مطابق یہ لاپتہ مہاجرین اور تارکین وطن شاید دیگر ممالک چلے گئے ہیں یا پھر وہ جرمنی میں ہی غیر قانونی طور پر کام میں مصروف ہو چکے ہیں۔ یہ خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ لاپتہ ہونے والے ان افراد میں سے کچھ جرائم میں بھی ملوث ہو سکتے ہیں۔

’زوڈ ڈوئچے سائٹنگ‘ کی یہ رپورٹ ایک ایسے وقت پر شائع ہوئی ہے، جب وفاقی جرمن دفتر برائے مہاجرین اور تارکین وطن کے سربراہ فرانک ژُرگن ویزے Frank-Juergen Wiese نے کہا ہے کہ حکام کے پاس جرمنی میں سکونت پذیر چار لاکھ افراد کی شناخت کے بارے میں کوئی معلومات نہیں ہیں۔

اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ڈبلن ریگولیشن کی وجہ سے جرمنی آنے والے مہاجرین کی شناخت کے بارے میں مسائل کا سامنا ہے۔ ڈبلن ریگولیشن کے مطابق یورپی یونین میں داخل ہونے والے مہاجرین کی رجسٹریشن اور ان کی شناخت کا کام وہی رکن ریاست کرے گی، جہاں وہ پہلی مرتبہ داخل ہوئے ہوں۔

اس رپورٹ کے منظر عام پر آنے سے ایک روز قبل یعنی کل جمعرات 25 فروری کو جرمن پارلیمنٹ میں قوانین کا ایک ایسا مجوزہ پیکج بھی منظور کر لیا گیا، جو پناہ کے متلاشی افراد کی جرمنی آمد کو مشکل بنانے میں مددگار ثابت ہو گا۔ آج بروز جمعہ بنڈس راٹ (ایوان بالا) میں اس قانون پر بحث ہو رہی ہے۔

Infografik Karte Flüchtlingsfeindliche Vorfälle 2016 EN

اس قانون سازی کا مقصد سیاسی پناہ کے متلاشی افراد کی درخواستوں پر عملدرآمد کو مؤثر اور تیز بنانا اور ایسے افراد کو ملک بدر کرنے میں سہولت فراہم کرنا ہے، جن کی پناہ کی درخواستوں کو رد کر دیا گیا ہے یا کر دیا جائے گا۔

کئی حلقوں نے اس مجوزہ قانون کی سخت شقوں کو تنقید کا نشانہ بھی بنایا ہے لیکن مہاجرین کے شدید بحران کے تناظر میں برلن حکومت کا کہنا ہے کہ اس قانون کی مدد سے جائز مہاجرین اور تارکین وطن کی آباد کاری کے لیے انتظامی مسائل کو حل کرنے میں مدد ملے گی۔