1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

جرمنی پہنچنے والے تارکین وطن کی تعداد میں نمایاں کمی

جرمن وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ جرمنی آنے والے نئے تارکین وطن کی تعداد میں نمایاں کمی دیکھی جا رہی ہے۔ مارچ کے مہینے میں آسٹریا کے ذریعے جرمنی پہنچنے والے نئے پناہ گزینوں کی تعداد محض پانچ ہزار رہی۔

خبر رساں ادارے روئٹرز اور ڈی پی اے نے جرمن وزارت داخلہ کے حوالے سے لکھا ہے کہ جرمنی آنے والے تارکین وطن کی تعداد میں مسلسل کمی دیکھی جا رہی ہے۔ وزارت داخلہ کے مطابق مارچ کے مہینے میں آسٹریا سے جرمنی آنے والے تارکین وطن کی مجموعی تعداد پانچ ہزار کے قریب رجسٹر کی گئی۔

جرمنی آنا غلطی تھی، واپس کیسے جائیں؟ دو پاکستانیوں کی کہانی

یونان میں پھنسے پاکستانی وطن واپسی کے لیے بیقرار

جرمن وفاقی پولیس کے ترجمان کے مطابق آسٹریا کے راستے جرمنی آنے والے پناہ گزینوں کی تعداد فروری کے مہینے میں 39 ہزار کے قریب رہی تھی جب کہ جنوری میں 65 ہزار پناہ گزین اس راستے سے جرمنی پہنچے تھے۔

جرمن اخبار فرانکفرٹر الگمائنے نے نیوز ایجنسی ڈی پی اے کے حوالے سے لکھا ہے کہ مارچ کے مہینے کے دوران جرمنی بھر میں مجموعی طور پر 20 ہزار سیاسی پناہ کی نئی درخواستیں موصول ہوئیں۔ اس کے مقابلے میں فروری میں جمع کرائی گئی درخواستوں کی تعداد 62 ہزار جب کہ جنوری میں قریب 92 ہزار رہی تھیں۔

تارکین وطن کی آمد میں کمی کی ایک بڑی وجہ آسٹریا اور بلقان کی دیگر ریاستوں کی جانب سے سرحدوں کی بندش ہے۔ انگیلا میرکل کی حکومت ان ممالک کی جانب سے تارکین وطن کے لیے انفرادی طور پر ملکی سرحدیں بند کرنے کے فیصلوں کو تنقید کا نشانہ بناتی رہی ہے تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ اس کی وجہ سے جرمنی ہی کو سب سے زیادہ فائدہ پہنچا ہے۔

دوسری جانب آسٹریا کے وزیر خارجہ سباستیان کُرس کا کہنا ہے کہ ان کے ملک کی جانب سے سرحدیں بند کرنے کے فیصلے کی بدولت ہی دوسری جنگ عظیم کے بعد یورپ کو درپیش مہاجرین کے سب سے بڑے بحران کا حل ممکن ہوا ہے۔ پناہ گزینوں کی اکثریت یورپ کے وسط میں واقع اسی ملک سے گزر کر جرمنی اور دیگر شمالی یورپی ممالک تک پہنچ رہی تھی۔ کُرس کے مطابق آسٹریا کے فیصلے کی وجہ سے ہی ترکی اور یورپی یونین کے مابین ڈیل ممکن ہوئی۔

آسٹریا نے رواں برس فروری کے مہینے سے اپنے ملک میں داخل ہونے والے تارکین وطن کی یومیہ تعداد اور سیاسی پناہ کی درخواستیں وصول کرنے کی سالانہ حد مقرر کر دی تھی۔ تارکین وطن کا راستہ روکنے پر ویانا حکومت کو نہ صرف یورپی ممالک کی جانب سے تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا بلکہ اقوام متحدہ نے بھی اس عمل کو بین الاقوامی قوانین اور انسانیت کے منافی قرار دیا تھا۔ تاہم آسٹریا ان الزامات سے انکار کرتے ہوئے اپنے اقدامات کو ناگزیر قرار دیتا ہے۔

گزشتہ روز آسٹریا نے اٹلی سے ملحقہ سرحد پر فوج تعینات کرنے کا اعلان بھی کر دیا ہے۔ یہ اقدام اس لیے بھی اہم ہے کہ یونان سے مغربی یورپ پہنچنے کے راستے بند ہونے کے بعد اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ شمالی افریقی ممالک سے اٹلی کا رخ کرنے والے تارکین وطن کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

جرمنی میں اب تک کتنے پاکستانیوں کو پناہ ملی؟

گھر بیٹھے بزرگ نے سمندر میں چھ سو مہاجرین کو کیسے بچایا؟

ویڈیو دیکھیے 02:42

مہاجرین کے خلاف زیادہ تر جرائم کا کھوج نہ لگایا جا سکا، رپورٹ

DW.COM

Audios and videos on the topic