1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

جرمنی: پناہ گزینوں کے مرکز میں آگ لگنے سے بیس زخمی

جرمنی میں مہاجرین کی ایک رہائش گاہ میں آگ لگنے کے بعد گہرے دھویں سے بیس افراد شدید متاثر ہوئے ہیں۔ پولیس کے مطابق آگ مبینہ طور پر اسی رہائش گاہ میں رہنے والے ایک مراکشی تارک وطن نے لگائی تھی۔

آگ لگنے کا یہ واقعہ آج پانچ نومبر بروز اتوار علی الصبح وفاقی جرمن ریاست نارتھ رائن کے شہر روئتھن میں پناہ گزینوں کے لیے مختص کردہ ایک رہائش گاہ میں پیش آیا۔

ترکی نے پاکستانیوں سمیت 310 مہاجرین یونان جانے سے روک دیے

’پناہ کے مسترد درخواست گزاروں کو جیب خرچ نہیں ملنا چاہیے‘

آگ لگنے کی اطلاع ملتے ہی فائر برگیڈ اور ابتدائی طبی امداد کے عملے نے موقع پر پہنچ کر امدادی کارروائیاں شروع کر دی تھیں۔ تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ آگ لگنے کے بعد اٹھنے والے شدید دھویں سے دم گھٹنے کے باعث اس رہائش گاہ میں مقیم بیس مہاجرین علیل ہوئے جنہیں قریبی ہسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا۔

مقامی پولیس نے اس شبے کا اظہار کیا ہے کہ یہ آگ تارکین وطن کی اسی رہائش گاہ میں رہنے والے ایک بیس سالہ مراکشی تارک وطن نے لگائی تھی۔

رہائش گاہ میں لگنے والی آگ کا آغاز اسی مراکشی شہری کے کمرے سے ہوا تھا۔ پولیس نے اس مبینہ ملزم کو حراست میں لے لیا ہے۔ پولیس کا یہ بھی کہنا ہے کہ نوجوان مراکشی تارک وطن مبینہ طور پر نشے کی حالت میں تھا۔ آگ لگنے کی وجوہات جاننے کے لیے تفتیش کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔

جرمنی میں مہاجرین کی رہائش گاہوں پر آگ لگائے جانے سمیت مختلف طرح سے حملوں کے واقعات ماضی میں بھی پیش آتے رہے ہیں۔ ان واقعات میں عام طور پر دائیں بازو کے جرمن شدت پسند ملوث پائے جاتے رہے ہیں۔ رواں برس ایسے واقعات میں کمی دیکھی گئی ہے تاہم جرائم کی تحقیق کرنے والا وفاقی جرمن ادارہ ممکنہ طور پر ایسے حملوں میں اضافہ ہونے کے خدشات کا اظہار کر چکا ہے۔

جرمنی: پناہ کی درخواست مسترد ہونے کے بعد کیا کیا جا سکتا ہے؟

پناہ کے ناکام متلاشیوں کو واپس لو، ورنہ ویزا پابندیاں بھگتو

DW.COM