1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

جرمنی: پناہ کے سوا چار لاکھ سے زائد کیس نمٹانے کا امکان

جرمنی کے وفاقی ادارہ برائے مہاجرت اور ترکِ وطن یا ’بی اے ایم ایف‘ کے مطابق توقع ہے کہ پناہ کے لیے دائر  باقی ماندہ چار لاکھ پینتیس ہزارکیسوں کو چند ماہ کے اندر نمٹا دیا جائے گا۔

Griechenland Flüchtlinge Kinder Hafen (Getty Images/D.Kitwood)

یورپ اور بالخصوص جرمنی پہنچنے والے مہاجرین میں سب سے زیادہ تعداد مشرق وسطیٰ اور افریقی ممالک سے تعلق رکھنے والوں کی ہے

جرمنی میں مہاجرین اور تارکینِ وطن کے اُمور کی دیکھ بھال کرنے والے وفاقی ادارے کی نئی سربراہ یوٹا کورڈٹ نے آج بروز‌ِ بدھ جرمنی کے ایک معروف اقتصادی روزنامے ’ہانڈلز بلٹ‘ کو دیے ایک انٹرویو میں کہا کہ اُن کی اوّلین ترجیحات میں مہاجرین کی پناہ کی درخواستوں پر عمل درآمد کے عمل میں تیزی لانا، ملک میں تارکینِ وطن کے انضمام کو یقینی بنانا اور ایسے مہاجرین کو ملک بدر کرنا شامل ہیں، جن کی پناہ کی درخواستیں مسترد ہو گئیں ہیں۔

اس جرمن اخبار نے یوٹا کورڈٹ کے حوالے سے لکھا، ’’ نئے سال میں ہم پناہ کے چار لاکھ پینتیس ہزار  کیس دیکھیں گے اور ہماری خواہش ہے کہ یہ تمام رواں برس موسمِ بہار تک نمٹا دیے جائیں۔‘‘ جرمنی کے ادارہ برائے مہاجرت کی سربراہ یوٹا کورڈٹ نے اقتصادی روزنامے کو انٹرویو میں مزید کہا کہ ان کے ادارے کو وفاقی حکومت کی جانب سے مسترد شدہ درخواستوں والے مہاجرین کی وطن واپسی کے عمل کو تیز بنانے کے لیے 40 ملین یورو کی اضافی فنڈنگ کی ہے۔

 کورڈٹ کا جرمن اخبار کو دیے گئے اس انٹرویو میں مزید کہنا تھا،’’ اگر ایک مہاجر کے لیے یہاں رہنے کا عملی طور پر کوئی امکان نہیں ہے تو اسے واپس جانے پر زور دینا اور واپسی کی مالی طور پر حوصلہ افزائی کرنا سمجھ میں آتا ہے۔‘‘ کورڈٹ نے ایک اور جرمن اخبار ’ پساؤر نوئے پریسے‘ کو ایک علیحدہ انٹرویو میں بتایا کہ  تارکینِ وطن کی بہتر شناخت کے لیے مقامی حکام کو اُن کی انگلیوں کے نشانات لینے چاہئیں تاکہ وہ ایک سے زائد پناہ کی درخواستیں دائر نہ کر سکیں۔

Deutschland Protest in Berlin gegen die Eroberung Aleppos (Imago/C. Mang)

جرمن حکومت گزشتہ دو برسوں سے پناہ کے قوانین میں سختی لا چکی ہے

جرمن حکومت گزشتہ دو برسوں سے پناہ کے قوانین میں سختی لا چکی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ یورپ کے اس اقتصادی پاور ہاؤس میں پناہ حاصل کرنے کے خواہش مند غیر ملکیوں کی تعداد میں بہت زیادہ اضافہ ہوا تھا، جس کے بعد اس تناظر میں قوانین میں ترامیم کی گئیں۔ ایک سال قبل سن 2016 کے استقبال کے موقع پر جرمن شہر کولون میں خواتین پر کیے گئے سلسلہ وار جسمانی اور جنسی حملے بھی ان قوانین میں سختی کے محرک قرار دیے جاتے ہیں۔

مہاجرت کے بحران کے نتیجے میں یورپ اور بالخصوص جرمنی پہنچنے والے مہاجرین میں سب سے زیادہ تعداد مشرق وسطیٰ اور افریقی ممالک سے تعلق رکھنے والوں کی ہے۔ یہ امر اہم ہے کہ جرمن آئین بھی جنگ اور ظلم و ستم کے مارے لوگوں کو ملک میں پناہ دیے جانے پر زور دیتا ہے۔

DW.COM