1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

جرمنی: پناہ کی درخواست مسترد ہونے کے بعد کیا کیا جا سکتا ہے؟

جرمن حکام اگر کسی تارک وطن کی سیاسی پناہ کی درخواست مسترد کر دیں تو اس کے پاس کیا انتخاب بچتا ہے؟ پناہ کے متلاشی انتظامی عدالت میں اپیل کے علاوہ انسانی حقوق کی یورپی عدالت سے بھی رابطہ کر سکتے ہیں۔

حالیہ رپورٹوں کے مطابق اس برس جرمن انتظامی عدالتوں میں پناہ کے مسترد درخواست گزاروں کی اپیلوں کی تعداد پچھلے برس کے مقابلے میں پانچ گنا زیادہ ہے۔ ایک مقامی اخبار کے مطابق اس برس کی پہلی ششماہی کے دوران تین لاکھ بیس ہزار تارکین وطن نے پناہ کی درخواستیں مسترد ہونے کے خلاف اپیلیں کی ہیں۔

2017ء جرمنی سے ملک بدریوں کا سال ہو گا، جرمن وزیر

جرمنی: اعلیٰ تعلیمی اداروں میں مہاجرین کی بڑھتی ہوئی تعداد

درخواستیں مسترد ہونے کی اقسام

وفاقی جرمن دفتر برائے مہاجرت و تارکین وطن (بی اے ایم ایف) کے حکام کسی تارک وطن کی پناہ کی درخواست کا جائزہ لیتے ہوئے اگر یہ سمجھیں کہ متعلقہ شخص کو جرمنی میں کسی بھی طرح کے تحفظ کی ضرورت نہیں ہے تو وہ درخواست مسترد کر سکتے ہیں۔ پناہ کی کئی اقسام ہیں، تسلیم شدہ مہاجر، سیاسی پناہ، عارضی تحفظ اور ملک بدری پر پابندی جیسے مختلف درجات میں تارکین وطن کو پناہ دی جاتی ہے۔

ویڈیو دیکھیے 01:33

جرمنی: افغان مہاجرین کی اجتماعی ملک بدری پھر سے شروع

ملک بدری کی دو بنیادی اقسام ہیں: سادہ طور پر پناہ کی درخواست رد کرنا، جب حکام اسائلم یا پناہ کا دعویٰ رد کر دیں اور "offensichtlich unbegründet”۔  (واضح طور پر بے بنیاد) رد، ایسا جواب تب دیا جاتا ہے جب پناہ کا درخواست گزار اپنے آبائی وطن کے بارے میں جھوٹ بولے، یا پناہ کے دعوے کے میں ناکافی شواہد فراہم کرے، اسے معاشی تارک وطن سمجھا جائے یا پھر وہ جرمنی کی سکیورٹی کے لیے خطرہ سمجھا جائے۔

ایک اور طرح کا انکار اس صورت میں کیا جاتا ہے جب حکام پناہ کے متلاشی شخص کو inadmissible یعنی ’ناقابل قبول‘ سمجھیں۔ ایسا فیصلہ اس وقت سنایا جاتا ہے جب تارک وطن نے جرمنی میں پناہ کی درخواست دینے سے پہلے کسی دوسرے یورپی ملک میں پناہ کی درخواست جمع کرائی ہو۔

پناہ کی درخواست مسترد کیے جانے کے فیصلے کے ساتھ ملک بدری کا نوٹس بھی دیا جاتا ہے۔ اگر سادہ طور پر پناہ کی درخواست رد کی گئی ہو تو تارک وطن کو تیس دن کے اندر ملک چھوڑنے کا کہا جاتا ہے اور وہ فیصلے کے دو ہفتوں کے اندر اندر اس فیصلے کے خلاف انتظامی عدالت میں درخواست جمع کرا سکتا ہے۔ تاہم ’واضح طو پر بے بنیاد‘ یا ’ناقابل قبول‘ درجوں کے تحت پناہ کی درخواست مسترد ہونے کی صورت میں درخواست گزار کو ایک ہفتے کے اندر اندر اپیل کرنا ہوتی ہے۔

درخواست رد ہونے کے خلاف اپیل

پناہ کی درخواست مسترد ہونے کے بعد انتظامی عدالت میں اپیل کی جاتی ہے جس کے بعد ابتدائی طور پر عدالت بی اے ایم ایف کے فیصلے کا جائزہ لیتی ہے جس کے بعد درخواست گزار کو سماعت کے لیے طلب کیا جاتا ہے۔ اگر جج یہ سمجھے کہ تارک وطن پناہ کا مستحق ہے یعنی تارک وطن کے حق میں فیصلہ ہو جائے تو بی اے ایم ایف کا ادارہ تارک وطن کو تحفظ فراہم کرنے کا پابند ہو جاتا ہے۔

تاہم اگر جج بھی اپیل مسترد کر دے تو پناہ گزین کو جرمنی سے جانا ہوتا ہے۔ تاہم اس صورت میں بھی درخواست گزار ’اعلیٰ انتظامی عدالت‘ میں اس فیصلے کے خلاف اپیل کر سکتا ہے اور اگر یہ عدالت بھی اپیل رد کر دے تو وفاقی آئینی عدالت میں اپیل کی جا سکتی ہے۔

وفاقی آئینی عدالت بھی اگر پناہ کی درخواست مسترد کر دے اور درخواست گزار یہ سمجھے کہ اس کے حقوق کی خلاف ورزی ہوئی ہے تو ایسی صورت میں انسانی حقوق کی یورپی عدالت میں بھی اپیل کی جا سکتی ہے۔

ویڈیو دیکھیے 02:38

یورپ جانے کا شوق، ’پاکستانی مہاجرین بھی پھنس گئے‘

ملک بدری

پناہ کی درخواست مسترد ہونے کا عام طور پر یہ مطلب ہوتا ہے کہ تارک وطن کو بی اے ایم ایف کی جانب سے دی گئی مدت کے اندر جرمنی سے بہرصورت جانا پڑتا ہے۔ اگر تارک وطن ملک نہ چھوڑنا چاہے تو حکام زبردستی ملک بدر کر سکتے ہیں۔ تاہم اگر کسی وجہ سے ملک بدری ممکن نہ ہو تو ایسی صورت میں تارک وطن کو ’ڈُلڈنگ‘ tolerated permit to stay” یعنی ’عبوری قیام کا اجازت نامہ‘ دے دیا جاتا ہے۔

کچھ خاص صورتوں میں اگر تارک وطن کے آبائی ملک کی صورت حال خراب ہو، یا پھر وہ خود مثلاﹰ ’بعد از جنگ شدید ذہنی صدمے‘ میں مبتلا ہو، تو ایسی صورت میں وہ تارک وطن پناہ کی ایک اور درخواست، جسے جرمن زبان میں "Asylfolgeantrag” کہا جاتا ہے۔ اس صورت میں تارک وطن کو ممکنہ طور پر پناہ بھی مل سکتی ہے یا پھر اس کی ملک بدری پر پابندی بھی لگائی جا سکتی ہے۔

’پناہ کے مسترد درخواست گزاروں کو جیب خرچ نہیں ملنا چاہیے‘

ایک یونانی حراستی مرکز میں قید پاکستانی تارکین وطن کی صورت حال

DW.COM

Audios and videos on the topic