1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

جرمنی: پناہ کی درخواستوں کی دوبارہ چھان بین

جرمن حکومت نے کہا ہے کہ متعلقہ حکام ایسے دو ہزار کیسوں کی چھان بین کر رہے ہیں، جن میں مہاجرین کو جرمنی میں پناہ دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ان میں شامی مہاجرین کے علاوہ افغان بھی شامل ہیں۔ آخر ایسا کیوں کیا جا رہا ہے؟

جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے نے جرمن حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ ان دو ہزار کیسوں کی چھان بین اس لیے کی جا رہی ہے تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا اس عمل میں کوئی غلطی تو نہیں ہوئی۔ گزشتہ ہفتے ہی یہ بات عام ہوئی تھی کہ حکام نے فرانکو اے نامی ایک ایسے جرمن شہری کو بطور شامی مہاجر رجسٹر کیا، جسے عربی زبان تک نہیں آتی تھی۔

جرمن فوجی کی بطور مہاجر پناہ کی درخواست کیسے منظور ہوئی؟

جرمنی ميں پناہ کی کچھ درخواستوں پر فيصلے، غلطيوں کا ثبوت

دہشت گردی کی مبینہ منصوبہ بندی، جرمن فوج کا لیفٹیننٹ گرفتار

بتایا گیا ہے کہ یہ جرمن شہری سابق فوجی تھا اور اس نے دو مقامات پر خود کو بطور شامی مہاجر رجسٹر کرایا اور اس کی درخواست منظور بھی کر لی گئی۔ شبہ ہے کہ وہ دہشت گردانہ حملوں کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔ تاہم مبینہ طور پر دائیں بازو کے نظریات سے تعلق رکھنے والے اس سابق جرمن فوجی کے اس عمل کے محرکات جاننے کے لیے تفتیشی عمل جاری ہے۔ ساتھ ہی حکومت اب تارکین وطن کو پناہ دینے جانے کے عمل کی سخت نگرانی کا بھی عندیہ دے چکی ہے۔

جرمن وزارت داخلہ کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ وفاقی ادارہ برائے مہاجرت اور مہاجرین BAMF یہ امر یقینی بنانے کی کوشش میں ہے کہ پناہ دیے جانے کے عمل میں اگر کوئی انتظامی خرابی ہے تو اسے دور کیا جائے۔ اسی تناظر میں اس ادارے نے دو ہزار ایسے کیسوں پر نظر ثانی شروع کی ہے، جن کے بارے میں شبہ ہے کہ ان میں کوئی غلطی نہ رہ گئی ہو۔ بتایا گیا ہے کہ پناہ کے حقدار قرار دیے جانے والے ان افراد کے پس منظر اور دیگر ڈیٹا کو دوبارہ پرکھا جا رہا ہے۔

مقامی میڈیا کے مطابق جرمن حکومت جن کیسوں کی چھان بین کر رہی ہیں، ان میں ایک ہزار شامی جبکہ اتنے ہی افغان مہاجرین بھی شامل ہیں۔ ان افراد کو سن دو ہزار سولہ میں یکم جنوری تا ستائیس اپریل جرمنی میں رہنے کی باقاعدہ اجازت دی گئی تھی۔

جرمنی میں لاکھوں مہاجرین کی آمد کے بعد ایسے خدشات کا اظہار کیا جا رہا تھا کہ مہاجرین کے بہروپ میں شدت پسند اور دہشت گرد بھی جرمنی آ سکتے ہیں۔ انہی خدشات کے پیش نظر غیر ملکیوں سے متعلق جرمن ادارے متعدد بار کہہ چکے ہیں کہ ملک میں نئے آنے والے پناہ گزینوں کی تفصیلی اور کڑی چھان بین کی جاتی ہے اور اس ضمن میں ایک جامع طریقہ کار بھی موجود ہے۔

 

DW.COM