1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جرمنی، ٹرین میں خنجر اور کلہاڑی سے حملہ، چار شدید زخمی

جرمنی میں ایک سترہ سالہ افغان پناہ گزین لڑکے نے ایک ٹرین میں مسافروں پر حملہ کرتے ہوئے چار افراد کو شدید زخمی کر دیا ہے۔ بعد ازاں پولیس نے حملہ آور کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔

جنوبی جرمن صوبہ باویریا کے وزیر داخلہ یوآخم ہیرمان نے بتایا کہ افغان پناہ گزین خنجر اور کلہاڑی سے لیس تھا اور اس نے مسافروں کے زخمی کرنے کے بعد ٹرین سے فرار ہونے کی کوشش کی۔
ان کے بقول پولیس کمانڈو کا ایک خصوصی دستہ اتفاقاً جائے وقوعہ کے قریب ہی موجود تھا اور اطلاع ملنے پر اس نے اس لڑکے کا پیچھا شروع کر دیا۔ اس دوران جیسے ہی اِس پناہ گزین نے پولیس پر حملہ کرنے کی کوشش کی تو اُسے گولی مار دی گئی۔
ہیرمان نے بتایا کہ اس واقعے کا پس منظر جاننے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ اس بات کا فیصلہ کیا جائے کہ آیا یہ حملہ مذہبی شدت پسندی کی وجہ سے کیا گیا ہے یا پھر اس کا کوئی اور سبب ہے۔
پولیس نے بتایا کہ یہ ٹرین وُورزبرگ نامی شہر سے ٹروئشلنگن جا رہی تھی اور یہ واقعہ گزشتہ شب تقریباً سوا نو بجے پیش آیا۔ عینی شاہدین میں سے ایک شخص کا کہنا ہے کہ افغان پناہ گزین نے حملہ کرنے سے قبل اللہ اکبر کا نعرہ بلند کیا تھا تاہم اس بیان کی دیگر کی جانب سے تصدیق نہیں کی گئی ہے۔
صوبہ باویریا کے وزیر داخلہ نے کہا کہ اسی بناء پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ شاید یہ مسلم انتہا پسندی کا ایک واقعہ ہے۔ حکام نے بتایا کہ ٹرین میں کل پچیس مسافر سوار تھے۔ بتایا گیا ہے کہ ٹرین میں سوار دیگر مسافروں میں کسی کو کوئی زخم تو نہیں آیا ہے تاہم وہ سکتے کی حالت میں ہیں۔
پولیس کے مطابق شدید زخمی ہونے والے چار افراد کا تعلق ہانگ کانگ سے ہے جبکہ ایک خاتون حملہ آور کو روکنے کی کوشش کے دوران معمولی سی زخمی ہوئی ہیں۔
تمام زخمیوں کا وُورزبرگ کے ہسپتالوں میں علاج جاری ہے۔ حملہ آور کے بارے میں اتنا معلوم ہو سکا ہے کہ ابھی کچھ دن قبل ہی اس لڑکے کو پناہ گزینوں کے ایک مرکز سے نگہداشت کرنے والے ایک خاندان کے پاس منتقل کیا گیا تھا۔
پولیس کے مطابق اس لڑکے کے کمرے میں موجود اشیاء کو جائزہ لینے کے بعد ہی واضح ہو سکے گا کہ گزشتہ دنوں کے دوران یہ کن افراد سے رابطے میں تھا اور اس نے انٹرنیٹ پر کون کون سی ویب سائٹس کو دیکھا تھا۔