1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

جرمنی نے گوگل کے خلاف مقدمہ دائر کیا

جرمنی نے انٹرنیٹ کمپنی گُوگل کی جانب سے کتابوں کو ڈیجیٹائز کرنے کے منصوبے کو عدالت میں چیلنج کر دیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت گوگل مصنفین کو ادائیگیاں کرنے کے لئے ایک قانونی سمجھوتہ چاہتی ہے۔

default

Bücherregale

گُوگل نے لاکھوں کتابوں کا آن لائن ورژن تیار کرنے کا منصوبہ بنایا ہے

جرمنی کی وزیر انصاف بریگیٹے سِپریس نے منگل کو ایک انٹرویو کے دوران کہا کہ گوُگل کے اس منصوبے کے خلاف نیویارک کی ایک عدالت میں مقدمہ دائر کر دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے: ’’ہمیں یقین ہے کہ عدالت اس منصوبے کو ردّ کر دے گی، یا کم از جرمن مصنفین اور پبلیشرز کو اس سے باہر رکھا جائے گا، تاکہ وہ اس کے اثر سے محفوظ رہیں۔‘‘

جرمن وزیر نے مزید کہا کہ یہ منصوبہ مصنفین کے حقوق کے لئے ہونے والے بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی ہے۔ سِپریس نے 'ورلڈ انٹرنیشنل پراپرٹی آرگنائزیشن کاپی رائٹ ٹریٹی' کا حوالہ بھی دیا، جو انیس سو چھیانوے میں جنیوا میں طے پائی تھی۔ اس معاہدے کے تحت کتابوں کی کسی دوسری جگہ تقسیم کے لئے مصنفین کی پیشگی اجازت ضروری ہے۔

گُوگل نے گزشتہ برس اکتوبر میں مصنفین اور پبلیشرز کی امریکی تنظیموں 'آؤتھرز گِلڈ‘ اور 'ایسوسی ایشن آف امریکن پبلیشرز' کے ساتھ ایک معاہدہ کیا تھا۔ قبل ازیں دوہزار پانچ میں ان تنطیموں نے کاپی رائٹ کی خلاف ورزی کے لئے گُوگل کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی تھی۔

تاہم ان امریکی تنظیموں کے ساتھ گزشتہ سال کے معاہدے کے تحت گُوگل مصنفین کو بقایا جات کی ادائیگی اور ایک خودمختار 'بُک رجسٹری' کے قیام کے لئے ایک سو پچیس ملین ڈالر ادا کرنے پر تیار ہے۔ اس طرح اپنی کتابوں کو ڈیجیٹائز کرنے کی اجازت دینے والے مصنفین اور پبلیشرز کو آن لائن کتابوں کی فروخت اور اشتہارات سے آمدنی حاصل ہوگی۔تاہم اس معاہدے کے لئے امریکہ میں ضلعی عدالت کے جج کی منظوری درکار ہے، جو اس حوالے سے مقدمے کی سماعت سات اکتوبر کو کریں گے۔ اس کے خلاف شکایات چار اگست تک جمع کرائی جا سکتی ہیں۔

Bundesjustizministerin Brigitte Zypries

جرمنی کی وزیر انصاف بریگیٹے سِپریس

جرمن وزیر انصاف کہتی ہیں، 'کتابوں کا آن لائن ورژن تیار کرنے کی اجازت دینی ہے یا نہیں، بہتر ہوگا کہ جرمن مصنفین اور پبلیشرز اس بات کا فیصلہ خود کریں۔'

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس منصوبے سے یورپی آن لائن لائبریری 'یورپیانا' کو بھی خطرہ لاحق ہے۔

دوسری جانب گُوگل کا کہنا ہے کہ ان کے اس منصوبے کے تحت آن لائن کتابیں صرف امریکہ میں ہی دستیاب ہوں گی، تاہم بریگیٹے سِپریس کہتی ہیں، سب جانتے ہیں کہ انٹرنیٹ کے لئے کوئی حد بندی نہیں ہے۔

اُدھر امریکی محکمہ انصاف بھی اس معاہدے پر تفتیش کر رہا ہے جبکہ یورپی یونین نے کہا کہ وہ اس کا جائزہ لے گی۔ انٹرنیٹ کی صنعت سے وابستہ چند بڑی کمپنیاں، مائیکروسافٹ، یاہو اور ایمازون بھی گُوگل کے اس منصوبے کے خلاف اٹھ کھڑی ہوئی ہیں۔

رپورٹ: ندیم گِل

ادارت: گوہر نذیر گیلانی

DW.COM