جرمنی نے ملکی خفیہ سروس سربراہ تبدیل کرنے کا اعلان کر دیا | حالات حاضرہ | DW | 27.04.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جرمنی نے ملکی خفیہ سروس سربراہ تبدیل کرنے کا اعلان کر دیا

جرمنی نے بدھ کے روز تصدیق کی ہےکہ فارن انٹیلیجنس سروس کے سربراہ گیرہارڈ شنائڈر کو تبدیل کیا جا رہا ہے۔ ان پر الزامات عائد کیے جا رہے تھے کہ انہوں نے یورپی اہداف کی جاسوسی میں امریکی خفیہ ادارے کی مدد کی۔

63 سالہ گیرہارڈ شنائڈر کے حوالے سے جرمن میڈیا پر مسلسل یہ اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں کہ انہوں نے امریکی خفیہ ادارے نیشنل سکیورٹی ایجنسی (NSA) کو یورپی افراد اور کمپنیوں کی جاسوسی میں مدد دی۔ جرمن خفیہ ادارے بنڈس ناخرشٹن ڈینسٹ (بی این ڈی) کے سربراہ کے طور پر شنائڈر کی مدت ملازمت رواں برس جولائی تک تھی، تاہم انہیں قبل از وقت فارغ کیا جا رہا ہے۔ ان کی جگہ اب بروُنو کال اس خفیہ ادارے کی سربراہی کریں گے۔ برونو کال اس وقت وزارت خزانہ میں ایک اعلیٰ عہدے پر فائز ہیں اور انہوں نے وکالت کی تعلیم حاصل کر رکھی ہے۔

جرمن چانسلر انگیلا میرکل کے چیف آف اسٹاف پیٹر آلٹمائر کی جانب سے سامنے آنے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے، ’’بی این ڈی کو حالیہ برسوں میں بڑے چیلنجز کا سامنا ہے، جن میں تبدیل ہوتے سکیورٹی حالات کے علاوہ این ایس اے کے حوالے سے تفتیشی کمیٹی کے کام کے بی این ڈی پر پڑنے والے تنظیمی اور قانونی اثرات بھی شامل ہیں۔‘‘

Symbolbild Geheim Geheimdienst

جرمن خفیہ ادارے نے مبینہ طور پر این ایس اے کی مدد کی

آلٹمائر نے شنائڈر کو قبل از وقت فارغ کرنے کی وجوہات نہیں بتائیں، تاہم جرمن میڈیا پر مسلسل یہ چہ مگوئیاں کی جاتی رہی ہیں کہ اس تبدیلی کے درپردہ متعدد عناصر ہیں، جن میں امریکی خفیہ ادارے این ایس اے کی متنازعہ معاونت کا معاملہ بھی شامل ہے۔

اس حوالے سے اکتوبر میں ایک تفتیشی رپورٹ مرتب کی گئی تھی۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی نے اس رپورٹ کے حوالے سے کہا ہے کہ اس تفتیشی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ امریکی خفیہ ادارے این ایس اے نے ایک فہرست بی این ڈی کے سپرد کی تھی، جس میں یورپی محکموں کے نام درج تھے، جن کی جاسوسی کی جانا تھی اور بی این ڈی سے کہا گیا تھا کہ ان اہداف کی جاسوسی سے حاصل ہونے والی معلومات کو امریکا روانہ کیا جائے۔

اس رپورٹ میں یہ بھی لکھا گیا تھا کہ بی این ڈی نے این ایس اے کی جانب سے ہزاروں اہداف کی جاسوسی کی درخواستیں مسترد بھی کیں، تاہم وہ واشنگٹن حکومت سے تعاون بھی کرتی رہی۔

جرمن میڈیا نے تاہم یہ بھی کہا ہے کہ اس تبدیلی کہ وجہ صرف این ایس اے ہی کا معاملہ نہیں بلکہ حکومت اس خفیہ ادارے میں اصلاحات کا منصوبہ رکھتی ہے اور تیزی سے تبدیل ہوتی سکیورٹی صورت حال کے لحاظ سے سائبر سکیورٹی اور دیگر معاملات سے نمٹنے کے لیے اس ادارے کو زیادہ موثر بنانا چاہتی ہے۔ اس کے علاوہ اس ادارے کا پُولاخ شہر میں واقع دفتر بھی وفاقی دارالحکومت برلن منتقل کیا جا رہا ہے۔