1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جرمنی نے مزید عسکری تعاون کی امریکی درخواست مسترد کر دی

جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے انتہا پسند تنظیم داعش کے خلاف مزید عسکری مدد کی امریکی درخواست مسترد کر دی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ اس تناظر میں برلن اپنی ذمہ داری بخوبی نبھا رہا ہے۔

Deutschland Angela Merkel Bundeskanzlerin

جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے انتہا پسند تنظیم داعش کے خلاف مزید عسکری مدد کی امریکی درخواست مسترد کر دی ہے

خبر رساں ادارے روئٹرز نے بتایا ہے کہ جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے جرمن براڈ کاسٹر ZDF سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ داعش کے خلاف جاری عالمی کارروائی میں ان کی حکومت اپنی ذمہ داری بخوبی نبھا رہی ہے، ’’ہمیں اس سلسلے میں نئے سوالات پر فی الحال بات کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘

میرکل نے یہ وضاحت اس وقت کی جب ان سے پوچھا گیا کہ امریکا کی طرف سے شام میں مزید عسکری مدد کی درخواست پر ان کا کیا ردعمل ہے۔

جرمن ہفت روزہ جریدے ڈیئر اشپیگل کے مطابق امریکی وزیر دفاع ایشٹن کارٹر نے جرمن حکومت کو ایک خط ارسال کیا ہے، جس میں درخواست کی گئی ہے کہ جرمنی جہادیوں کے خلاف کارروائی میں مزید عسکری تعاون فراہم کرے۔

امریکا نے یہ درخواست ایک ایسے وقت پر کی ہے، جب جرمن پارلیمنٹ نے ابھی حال ہی میں شام میں برلن کے بارہ سو تک فوجی تعینات کرنے کی منظوری دی ہے۔

جرمن وزارت دفاع نے تصدیق کی ہے کہ امریکا کی طرف سے اسے ایشٹن کارٹر کا خط موصول ہوا ہے۔ تاہم یہ نہیں بتایا گیا کہ اس خط کا متن کیا ہے۔ زیادہ تفصیل بتائے بغیر صرف یہ کہا گیا ہے کہ واشنگٹن حکومت کی درخواست زیر غور ہے۔

ڈیئر اشپیگل کے مطابق جرمنی کو موصول ہونے والے اس امریکی خط کا متن وہی ہے، جو دیگر اتحادی ممالک کو روانہ کیے گئے خطوط کا ہے۔

یہ امر اہم ہے کہ جرمنی گزشتہ دو سالوں سے بیرون ملک فوجی مشن روانہ کرنے کے لیے رضا مندی ظاہر کر رہا ہے۔ جرمنی کی خاتون وزیر دفاع ارزولا فان ڈیئر لاین نے گزشتہ ہفتے ہی کہا تھا کہ زیادہ فعال کردار ادا کرنے کے لیے جرمن فوجیوں کی تعداد میں اضافے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔

Deutschland Irak Bundeswehr bildet Peschmerga aus

جرمن وزارت دفاع نے تصدیق کی ہے کہ امریکا کی طرف سے اسے ایشٹن کارٹر کا خط موصول ہوا ہے

شام اور عراق میں فعال انتہا پسند گروہ داعش سے نمٹنے کے لیے امریکا کی قیادت میں اتحادی ممالک عسکری کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ خلیجی اور متعدد مغربی ممالک کے علاوہ اب برطانیہ نے بھی ان جہادیوں کے خلاف فضائی کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔

تاہم امریکی وزیر خارجہ جان کیری کا کہنا ہے کہ داعش کے جنگجوؤں کو شکشت دینے کے لیے صرف فضائی کارروائی ہی کافی نہیں ہے بلکہ اس تناظر میں زمینی کارروائی بھی ضرروری ہے۔