1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

جرمنی نے ترک یورپی ڈیل کے تحت سب سے زیادہ مہاجرین کو پناہ دی

ترکی اور یورپی یونین کے مابین مہاجرین سے متعلق طے شدہ معاہدے کے مطابق جرمنی نے یونین کے باقی ممالک کی نسبت سب سے زیادہ مہاجرین کو اپنے ہاں پناہ دی ہے۔ یہ معاہدہ گزشتہ برس مارچ کے مہینے میں طے پایا تھا۔

نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق ترکی اور یورپی یونین کے مابین مہاجرین سے متعلق طے شدہ معاہدے کے تحت اب تک جرمنی نے سب سے زیادہ مہاجرین کو اپنے ہاں پناہ دی ہے۔ یورپی یونین اور ترکی کے مابین یہ ڈیل گزشتہ برس مارچ کے مہینے میں طے پائی تھی لیکن اس پر عمل درآمد اپریل کے مہینے سے شروع ہوا تھا۔

’یورپ میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ویزے نہیں دیے جائیں گے‘

معاہدہ طے پانے کے ایک سال بعد کے عرصے میں ترکی میں پناہ گزینوں کے کیمپوں میں مقیم 4884 مہاجرین کو قانونی طریقے سے مختلف یورپی یونین کے ممالک لا کر آباد کیا گیا۔ جرمنی نے ان میں سے 1768 مہاجرین کو اپنے ہاں پناہ دی جو کہ مجموعی تعداد کا قریب چھتیس فیصد بنتی ہے۔

یہ اعداد و شمار جرمنی کی وفاقی وزارت داخلہ کی جانب سے جاری کیے گئے ہیں۔ اس معاہدے کے تحت ترکی کے پناہ گزین کیمپوں سے جرمنی آنے والے مہاجرین کی تازہ ترین کھیپ اسی ہفتے جمعرات کے روز آئی۔ اس ایک فلائٹ میں 180 مہاجرین قانونی طریقے سے جرمنی پہنچے۔ نو مئی کے روز ایک ایسی ہی پرواز مزید مہاجرین کو ترکی سے جرمنی پہنچائے گی۔

جرمن وزارت داخلہ کے مطابق مستقبل میں ہر ماہ پانچ سو مہاجرین کو ترکی سے جرمنی لا کر آباد کیا جائے گا۔ جرمنی کے بعد ہالینڈ نے سب سے زیادہ مہاجرین کو اپنے ہاں پناہ دی۔ ہالینڈ میں 1029 جب کہ فرانس میں 691 مہاجرین کو قانونی طریقے سے لا کر آباد کیا گیا۔

مہاجرین سے متعلق جرمنی اور یورپی یونین کے مابین طے پانے والے معاہدے کے مطابق ترک ساحلوں سے غیر قانونی طور پر یونانی جزیرے کا رخ کرنے والے تمام مہاجرین کو واپس ترکی بھیجا جا رہا ہے۔ اب تک قریب بارہ سو ایسے تارکین وطن کو واپس ترکی بھیجا جا چکا ہے جن میں سے اکثریت پاکستانی شہریوں کی تھی۔

اس معاہدے کے مطابق واپس ترکی بھیجے جانے والے ہر بین الاقوامی قوانین کے مطابق تسلیم شدہ مہاجر کے بدلے ترک کیمپوں میں رہنے والے ایک مہاجر کو یورپی یونین میں قانونی طریقے سے پناہ دی جائے گی۔ علاوہ ازیں یورپی یونین ترکی میں مہاجرین کو سہولیات مہیا کرنے کے لیے انقرہ حکومت کو مالی معاونت بھی فراہم کر رہی ہے۔

یونان میں چند پیسوں کی خاطر جسم بیچتے پاکستانی مہاجر بچے

DW.COM