1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جرمنی نے بھی داعش کے خلاف جنگ میں شامل ہونے کا فیصلہ کر لیا

جرمنی شام اور عراق میں سرگرم دہشت گرد گروپ اسلامک اسٹیٹ کے خلاف جاری ملٹری اتحاد میں شریک ہونے کی تیاری کر رہا ہے۔ اس سلسلے میں جرمنی کے ٹورناڈو طیارے اور جنگی بحری جہاز تعینات کیا جائے گا۔

جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے کے مطابق چار سے چھ نگرانی کرنے والے طیارے اور بحری جنگی جہاز بھیجنے کا فیصلہ آج جمعرات 26 نومبر کو سینیئر وزراء کی برلن میں ہونے والی ایک ملاقات کے بعد کیا گیا ہے۔

یہ میٹنگ جرمن چانسلر انگیلا میرکل کی طرف سے بلائی گئی تھی جنہوں نے گزشتہ روز فرانسیسی صدر فرانسوا اولانڈ سے ملاقات میں اس بات پر اتفاق کیا تھا کہ جرمنی اسلامک اسٹیٹ کے خلاف بین الاقوامی جنگ کے لیے اپنے فوجی تعاون میں اضافہ کرے گا۔

میڈیا رپورٹوں کے مطابق پیرس حکومت نے درخواست کی تھی کہ جرمنی ٹونارڈو طیارے فراہم کرے جو اسلامک اسٹیٹ کے خلاف فرانسیسی ملٹری مشن کی مدد کے لیے جاسوسی کا کام انجام دے سکیں۔ خیال رہے کہ پیرس میں 13 نومبر کو ہونے والے دہشت گردانہ حملوں کی ذمہ داری داعش نے قبول کی تھی۔ ان حملوں میں 130 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

میرکل کی طرف سے آج دارالحکومت برلن میں بلائی گئی میٹنگ میں وزیر خارجہ فرانک والٹر اشٹائن ماہر، نائب وائس چانسلر زیگمار گابریئل اور وزیر دفاع ارسلا فان ڈیئر لائن بھی شریک تھیں۔ اس میٹنگ میں اس بات پر غور کیا گیا کہ جرمنی فوجی حوالے سے کِس طرح اسلامک اسٹیٹ کے خلاف فرانسیسی صدر فرانسوا اولانڈ کی طرف شروع کی جانے والی جنگ میں مدد فراہم کر سکتا ہے۔

ڈی پی اے کے مطابق جرمن حکام کا کہنا ہے کہ جرمنی متوقع طور پر اتحادی ممالک کے طیاروں کو فضا میں تیل کی فراہمی اور سیٹلائٹ کے ذریعے نگرانی کے معاملے میں بھی مدد کر سکتا ہے۔

اسلامک اسٹیٹ کی طرف سے عالمی خطرات کے خاتمے کے لیے فیصلہ کن اقدام کی ضرورت ہے، میرکل

اسلامک اسٹیٹ کی طرف سے عالمی خطرات کے خاتمے کے لیے فیصلہ کن اقدام کی ضرورت ہے، میرکل

جرمنی کی طرف سے بھیجا جانے والا جنگی بحری جہاز ممکنہ طور پر فرانسیسی جنگی بحری جہاز شارل ڈی گال کو مدد فراہم کرائے گا جو پہلے ہی سے مشرقی بحیرہ روم میں تعینات ہے۔

اولانڈ ماسکو میں

ادھر فرانسیسی صدر فرانسوا اولانڈ آج جمعرات کے روز ماسکو پہنچے ہیں جہاں وہ روسی صدر ولادیمیر پوٹن سے ملاقات کر رہے ہیں۔ یہ میٹنگ دراصل عالمی رہنماؤں کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں کا حصہ ہے۔ وہ قبل ازیں امریکی صدر باراک اوباما اور جرمن چانسلر انگیلا میرکل سے ملاقاتیں کر چکے ہیں۔ ان ملاقاتوں کا مقصد شام اور عراق میں سرگرم دہشت گرد گروپ اسلامک اسٹیٹ کے خلاف نیا بین الاقوامی اتحاد تشکیل دینے کی کوشش ہے۔

پیرس میں ہونے والے حملوں کے بعد جرمنی نے اس بات کے امکان کو رد نہیں کیا تھا کہ فرانس کو فوجی مدد فراہم کر سکتا ہے۔ بدھ کے روز پیرس میں فرانسیسی صدر کی رہائش گاہ پر میرکل کا کہنا تھا کہ اسلامک اسٹیٹ کی طرف سے عالمی خطرات کے خاتمے کے لیے فیصلہ کن اقدام کی ضرورت ہے۔