1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جرمنی نے امریکی مطالبہ مسترد کر دیا

جرمنی نے افغانستان میں اپنی فوج کی تعداد میں اضافے اور ملک کے بحران زدہ علاقوں میں فوج کی تعیناتی کے امریکی مطالبے کو مسترد کر دیا ہے۔

default


مغربی ممالک افغانستان میں اپنی مشترکہ کاروائیوں کے سلسلے میں آپس میں متفق اور پر عزم دکھائی دیتے ہیں۔ لیکن افغانستان کے بگڑتے ہوئے حالات اور طالبان کی بڑھتی ہوئی کاروائیاں ان کی تشویش میں اضافہ کررہی ہیں۔ خاص طور پر ملک کے جنوب میں طالبان کا زور بڑھتا جا رہا ہے۔ اسی لئے امریکی وزیر دفاع Robert Gates نے جرمن حکومت سے ایک خط کے ذریعے ملک کے جنوب میں جرمن فوجی دستے بھیجنے کا مطالبہ کیا ہے۔ جرمن حکام نے اپنے فوری رد عمل میں ، امریکہ کی اس مطالبے کو ماننے سے انکار کر دیا ہے۔

وفاقی جرمن حکومت کے ترجمان Ulrich Wilhelm نے بتایا کہ ، جرمن چانسلر آنگیلا میرکل نے کہا کہ افغانستان میں جرمن فوج کی ذمہ داریوں میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔ جبکہ جرمن وزیر دفاع Franz joseph Jung نے بھی چانسلر کے موقف کی تائید کر تے ہوئے کہا کہ افغانستان میں جرمن افواج تعداد کے لحاظ سے تیسرے نمبر پر ہیں اور ہماری ذمہ داریاں بالکل واضع ہیں، ہم ،افغانستان کے پر امن شمالی علاقوں میں نیٹو فوج کے ساتھ ، ملک کی تعمیر نو میں حصہ لیتے رہیں گے اور جرمنی کا بحران زدہ علاقوں ، خصوصا ملک کے جنوب میں فوج بھیجنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔

جرمنی کے تین ہزار دو سو فوجی اس وقت افغانستان میں موجود ہیں ۔ جن میں زیادہ تر ملک کے شمال میں تعمیر نو کے کاموں میں مصروف ہیں۔ جبکہ کچھ دارلحکومت کا بل میں تعینات ہیں۔ جبکہ دوسری طرف امریکہ کی اسی قسم کی درخواست پر فرانس یکی طرف سے بھی کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا تھا۔ امریکہ نے ان انکار کے باوجود ، نیٹو ممالک سے ایک مرتبہ پھر اپنی افواج کی تعداد میں اضافہ کا مطالبہ کیا ہے۔

Audios and videos on the topic