1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

جرمنی: نسل پرستی اور نفرت پر مبنی حملوں میں اضافہ

رواں برس جرمنی ميں ریکارڈ تعداد میں مہاجرین کی آمد کے بعد سے دائیں بازو کے انتہا پسندوں کی جانب سے مہاجرین کی پناہ گاہوں پر حملے کرنے، دیواروں پر سواستیکا کا نشان بنانے اور نسل پرستانہ حملوں میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔

مہاجرین کی مدد کرنے والے اداروں کے مطابق جرمنی ميں روزانہ پناہ گزینوں کے خلاف جرائم کا ارتکاب ہوتا ہے۔ سابقہ مشرقی جرمنی کے ایک شہر کریمیٹشاؤ میں گزشتہ ہفتے تین افراد کو حراست میں لیا گیا۔ ان لوگوں نے نومبر کے مہینے میں مہاجرین کے ايک شیلٹر ہاؤس پر پیٹرول بم سے حملہ کیا تھا۔ حملے کے وقت اس شیلٹر ہاؤس میں 20 بچوں سمیت 45 افراد موجود تھے۔ اسی طرح گزشتہ ہفتے ہی دو افغان پناہ گزینوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے شام اور دیگر شورش زدہ ممالک سے آنے والے مہاجرین کے لیے اپنے ملک کے دروازے کھولے رکھے ہيں۔ صرف رواں برس دس لاکھ مہاجرین جرمنی میں پناہ کی تلاش میں پہنچے ہیں۔ جرمن شہريوں کی اکثریت نے کھلے دل کے ساتھ تارکین وطن کو خوش آمدید کہا اور رضاکارانہ بنيادوں پر ان کی مدد بھی کی۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ غیر ملکیوں سے نفرت میں بھی اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

جرمن وزیر داخلہ تھوماس ڈے میزیئر نے ابھی گزشتہ ہفتے ہی پناہ گزینوں کے مراکز پر حملوں سے لے کر اقدام قتل تک جیسے جرائم میں اضافے پر خبردار کرتے ہوئے ایسے جرائم کو ’افسوس ناک اور ناقابل قبول‘ قرار دیا ہے۔

انگیلا میرکل نے نفرت پھیلانے والے اور تارکین وطن کی پناہ گاہوں پر حملے کرنے والے عناصر سے سختی سے نمٹنے کا اعلان کر رکھا ہے۔ ستمبر کے مہینے میں میرکل نے غیر ملکیوں سے نفرت کے خلاف منعقد ہونے والے ایک مظاہرے میں ذاتی طور پر شرکت کی تھی۔

ان سب اقدامات کے باوجود جرمنی میں غیرملکیوں سے نفرت اور تارکین وطن کی املاک پر حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔ جرمنی کے ہفتہ وار جریدے ’ڈی زائٹ‘ میں شائع ہونے والے ایک جائزے کے مطابق رواں برس مہاجرین کی پناہ گاہوں پر 222 سنگین نوعیت کے حملے ہوئے لیکن ان میں سے صرف چار واقعات میں فرد جرم عائد ہو سکی۔

جریدے کا یہ بھی کہنا ہے کہ ’’اگر حکومت واقعی ایسے حملوں سے سختی سے نمٹنا چاہتی ہے تو ریاست کو اس سلسلے میں مزید اقدامات کرنا ہوں گے۔‘‘ تاحال قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے ایسے جرائم کی تفتیش کے لیے مختص وسائل ناکافی ہیں۔ ٹھوس ثبوت حاصل کرنے میں ایک دشواری یہ بھی ہے کہ عام طور پر پناہ کے مراکز نسبتاﹰ کم آباد علاقوں میں بنائے گئے ہیں جس کی وجہ سے عینی شاہدین ملنا مشکل عمل ہے۔

دائیں بازو کی انتہا پسندی، نیو نازیوں اور سام دشمنی کے خلاف کام کرنے والی ایک تنظیم سے وابستہ ٹیمو رائن فرانک کا کہتے ہیں، ’’ایسے واقعات میں ابھی تک کسی کی جان نہیں گئی تو یہ محض خوش قسمتی ہے۔‘‘ رائن فرانک کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایسے جرائم صرف نیو نازیوں کی جانب سے نہیں کیے جاتے بلکہ نام نہاد ’ذمہ دار شہری‘ بھی ایسے جرائم کے ذریعے غیر ملکیوں کے خلاف اپنی نفرت کا اظہار کرتے ہیں۔

فرانس میں ہونے والے دہشت گردانہ حملوں اور ان میں مبينہ طور پر مہاجرین کے روپ میں آئے ہوئے دہشت گردوں کے ملوث ہونے کے باعث پیگیڈا جیسی تنظیموں کو ایک نئی زندگی ملی ہے۔ پیگیڈا مغرب کے اسلامیائے جانے کے خلاف ہفتہ وار مظاہروں کا اہتمام کرتی ہے۔

ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ جرمنی میں بھی دائیں بازو کی سیاسی جماعتوں کی مقبولیت میں اضافہ دکھائی دے رہا ہے۔ جب کہ مہاجرین دوست رویہ رکھنے والی جماعتوں اور خاص طور پر انگیلا میرکل کی مقبولیت میں نمایاں کمی ريکارڈ کی جا رہی ہے۔

DW.COM