1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

جرمنی میں یورپی تارکین وطن کے لیے مراعات میں کمی کا منصوبہ

جرمنی نے یورپی یونین کے رکن ممالک سے آنے والے تارکین وطن کو فراہم کی جانے والی سماجی مراعات کم کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔ یورپی یونین نے ایک ڈیل کے تحت حال ہی میں برطانیہ کو ایسا قانون لاگو کرنے کی اجازت دی تھی۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کی جرمن دارالحکومت برلن سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق جرمنی ایک ایسے قانونی مسودے پر کام کر رہا ہے جس کے مطابق یورپی یونین کے رکن ممالک سے نقل مکانی کر کے جرمنی میں آباد ہونے والے تارکین وطن کو فراہم کردہ مراعات کم کر دی جائیں گی۔

آسٹریا نے پناہ کے سخت ترین قوانین متعارف کرادیے

’تارکین وطن کو اٹلی سے بھی ملک بدر کر دیا جائے‘

جرمنی کی وفاقی وزیر محنت آندریا نالَیس ایک ایسے قانونی مسودے پر کام کر رہی ہیں جس کے مطابق جرمنی میں مقیم بے روزگار یورپی باشندوں کو سوشل سکیورٹی جیسی سہولیات صرف اسی صورت میں دی جائیں گی کہ انہوں نے جرمنی میں کم از کم پانچ سال تک کام کیا ہو۔

یورپی یونین کے رکن ممالک سے تعلق رکھنے والے ایسے تارکین وطن، جو اس شرط پر پورا نہیں اتریں گے، انہیں صرف چار ہفتوں کے لیے مالی امداد فراہم کی جائے گی۔ اس دوران یہ لوگ اپنے وطن واپس جانے کے لیے قرضہ لے سکیں گے جہاں وہ سوشل سکیورٹی حاصل کرنے کے لیے درخواستیں دے سکیں گے۔

اس سے پہلے برطانیہ اور یورپی یونین کے مابین ایسا ہی ایک معاہدہ طے پا چکا ہے۔ یورپی یونین کے رکن مشرقی یورپی ممالک نے برطانیہ کے اس فیصلے کو اپنے شہریوں کے خلاف امتیازی سلوک قرار دیا تھا۔

برلن حکومت یورپی یونین کے شہریوں کو فراہم کی جانے والی سوشل سکیورٹی میں اس قسم کی کٹوتیوں کی ہمیشہ مخالفت کرتی رہی ہے تاہم اسے اپنا موقف گزشتہ برس دسمبر کے مہینے میں اس وقت تبدیل کرنا پڑ گیا تھا جب جرمنی کی وفاقی عدالت نے ایک ایسا فیصلہ سنایا تھا جس کے مطابق چھ ماہ یا اس سے زائد عرصے سے جرمنی میں مقیم یورپی شہریوں کو جرمنی میں مکمل سماجی مراعات فراہم کیے جانے کا حکم دیا گیا تھا۔ عدالتی فیصلہ یورپی یونین سے تعلق رکھنے والے بے روزگار تارکین وطن پر بھی لاگو کر دیا گیا تھا۔

اس فیصلے کے بعد یورپی یونین کے ایسے ممالک، جہاں فراہم کی جانے والی سماجی سہولیات جرمنی کی نسبت بہت کم ہیں، سے تعلق رکھنے والے افراد کی بڑے پیمانے پر جرمنی کی جانب نقل مکانی کا اندیشہ پیدا ہو گیا تھا۔

اگرچہ اب تک ایسی صورت حال پیدا نہیں ہوئی لیکن جرمن وزیر محنت کا کہنا تھا، ’’جرمنی میں دیگر ممالک میں سوشل سکیورٹی اور تنخواہوں میں بہت زیادہ فرق ہونے کی وجہ سے ہم اس قانونی سقم کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔‘‘

جرمن کابینہ کی جانب سے اس قانونی مسودے کی منظوری کی صورت میں اسے حتمی منظوری کے لیے جرمن پارلیمان میں پیش کر دیا جائے گا۔

جرمنی نے 2016ء میں اب تک کتنے پاکستانیوں کو پناہ دی؟

یورپی کمیشن نے سیاسی پناہ کے نئے قوانین تجویز کر دیے

DW.COM