1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

صحت

جرمنی میں ہزاروں خنزیر ہلاک کیے جائیں گے

جرمن حکام نے ملک میں ہزاروں خنزیر ہلاک کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ اس ٹیسٹ کے بعد کیا گیا ہے، جس سےاس جانور میں زہریلے مادے ڈائی آکسن کی بلند ترین سطح پائے جانے کا انکشاف ہوا تھا۔

default

جرمنی کی ریاست لوئر سیکسونی کی وزارت زراعت کے ترجمان نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ حکومت کی جانب سے کیے گئے ان معائنوں سے اس بات کے شواہد ملے ہیں کہ خنزیروں میں ڈائی آکسن کی خاصی بڑی مقدار موجود ہے، لہٰذا ان جانوروں کو ہلاک کرنا ضروری ہو گیا ہے، جس کے بعد انہیں جلا دیا جائے گا۔

Dioxin Skandal Eier

ڈائی آکسن سے متاثرہ انڈے تلف کرنے کا سلسلہ بھی جاری ہے

وفاقی وزارت برائے زراعت کے مطابق اس سے قبل انڈوں کے ٹیسٹ سے بھی اس بات کا پتہ چلا تھا کہ ان میں مقرر کردہ مقدار سے زیادہ ڈائی آکسن پائی گئی ہے، جس کے استعمال سے انسانوں میں کینسر پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔ ان معائنوں کے مثبت ہونے کے بعد حکام نے ایک لاکھ کے قریب انڈے تلف کر دیے تھے۔ اس کے ساتھ ہی ملک کے کُل تین لاکھ 75ہزار میں سے چار ہزار سات سو فارمز بند کر دیے گئے، تاہم ان میں سے چند دوبارہ فعال کر دیے گئے ہیں۔

اس سے قبل گزشتہ ہفتے ہی جنوبی کوریا نے جرمنی سے خنزیر اور سلواکیہ نے انڈوں اور گوشت کی درآمد پر پابندی عائد کر دی تھی ۔ دوسری جانب روس نے بھی کہا ہے کہ جرمنی سے درآمد کیے جانے والے گوشت کو مانیٹر کیا جائے گا۔ ماسکو حکام نے یورپی کمیشن اور جرمنی پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ جانوروں کی خوراک میں پائے جانے والے زہریلے مادے، ڈائی آکسن کے بارے میں درست معلومات فراہم نہیں کر رہے۔

گو کہ ان معائنوں کے بعد انڈوں اور گوشت میں زہریلے مادے کی غیر معمولی مقدار کی موجودگی کی تصدیق ہوگئی ہے اور انہیں تلف کرنے کا سلسلہ بھی شروع کر دیا گیا ہے، تاہم جرمن حکومت کا ابتداء سے ہی یہ اصرار رہا ہے کہ اب تک مختلف ممالک کو برآمد کیے جانے والے انڈے اور گوشت مضر صحت نہیں تھے ۔ ان ممالک میں فرانس، ڈنمارک اور ہالینڈ شامل ہیں جبکہ ان میں سے چند انڈے برطانیہ بھی برآمد کیے گئے۔

واضح رہے کہ انڈوں اور گوشت میں پایا جانے والا ڈائی آکسن مادہ حاملہ خواتین کے لیے انتہائی مُضر ثابت ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ سرطان کا بھی سبب بنتا ہے۔

رپورٹ: عنبرین فاطمہ

ادارت: ندیم گِل

DW.COM

ویب لنکس