1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جرمنی میں ہتھیاروں سے متعلق قوانین سخت

برلن میں کل بدھ کو وفاقی جرمن کابینہ نے ملک میں آتشیں ہتھیاروں سے متعلق قوانین کو مزید سخت بنانے کی منظوری دے دی۔

default

مارچ میں ایک 17سالہ جنونی جرمن نوجوان نے سولہ افراد کو قتل کرنے کے بعد خود کُشی کرلی تھی

جرمن صوبے باڈن وُرٹیمبیرگ کے قصبے وِنَینڈن میں مارچ میں ایک 17سالہ جنونی نوجوان نے سولہ افراد کو قتل کرنے کے بعد خود کُشی کرلی تھی۔ اس واقعے کے دو ماہ سے زائد عرصے بعد، کَل بدھ کو برلن میں وفاقی جرمن کابینہ نے ملک میں آتشیں ہتھیاروں سے متعلق قوانین کو مزید سخت بنانے کی منظوری دے دی۔

Trauer nach Amoklauf in Winnenden

جرمن صوبے باڈن ورٹیمبیرگ میں فائرنگ کے واقعے میں سولہ افراد مارے گئے جن میں زیادہ تر طلباء شامل تھے

جرمنی میں آتشیں ہتھیاروں سے متعلقہ قوانین میں سختی اب وفاقی پارلیمانی انتخابات سے پہلے ہی کر دی جائے گی۔ بنیادی ترامیم اس بارے میں یہ ہوں گی کہ عام شہریوں نے اپنے گھروں میں جو آتشیں ہتھیار رکھے ہوں گے، ان کا بغیر کسی پیشگی شک و شبے اور بغیر کسی پیشگی اطلاع کے، سرکاری اہلکار اچانک معائنہ کرسکیں گے۔ اس طرح اس امر کو یقینی بنایا جاسکے گا کہ آیا لائسنس یافتہ اسلحے کے مالکان نے اِن ہتھیاروں اور اُن میں استعمال ہونے والے بارودی مواد کو عین اسی طرح اپنے گھر پر محفوظ رکھا ہوا ہے جیسا کہ قانون کا تقاضا ہے۔

جرمنی کی موجودہ مخلوط حکومت میں شامل دونوں جماعتوں کے بیشتر سیاستدان اس قانونی سختی کے حامی ہیں۔ چانسلر میرکل کی جماعت CDU اور اُس کی ہم خیال قدامت پسند جماعت CSU کے مشترکہ پارلیمانی حزب کے داخلہ اور قانونی اُمور کے ماہر وولف گانگ بوسباخ کہتے ہیں کہ عام گھروں میں ہتھیاروں کو محفوظ انداز میں رکھنے سے متعلق سرکاری اہلکاروں کی طرف سے اچانک چیکنگ کسی قسم کے نئے مسائل کا باعث نہیں بنے گی۔

"ایسا اس لئے نہیں ہوگا کہ قانون کی پاسداری کرنے والے مالکان اسلحہ، کھیل کے طور پر شوٹنگ کرنے والے شہری اور شکار کے دلدادہ افراد کو تو بلکہ اس بارے میں دلچسپی ہو گی کہ وہ یہ ثابت کرسکیں کہ ان کے گھروں میں آتشیں ہتھیاروں کو قانونی تقاضوں کے عین مطابق رکھا جاتا ہے۔"

Deutschland Amoklauf Winnenden Pressekonferenz Tatwaffe

جرمنی کی موجودہ مخلوط حکومت میں شامل دونوں جماعتوں کےبیشتر سیاستدان اس قانونی سختی کے حامی ہیں

اس طرح جو مالکان اسلحہ سرکاری اہلکاروں کو اچانک معائنے کے لئے اپنے گھروں میں داخلے کی اجازت دینے سے انکار کریں گے، اُن کے اسلحہ لائسنس منسوخ بھی کئے جا سکیں گے۔ برلن کی وسیع تر مخلوط حکومت میں شامل سوشل ڈیموکریٹک پارٹی SPD کے داخلہ سیاسی امور کے ماہر فرِٹس رُوڈولف کوئرپرکہتے ہیں کہ اس آئندہ قانونی سختی کو ایک مختلف طریقے سے دیکھا جانا چاہیئے۔

"اس اچانک معائنے کو عملی طور پر ذمہ داری کے بہتر احساس اور اجتماعی تربیت کے موقع کے طور پر دیکھا جانا چاہیئے۔ مثلاﹰ یہ طے کرنا کہ عام شہری آتشیں ہتھیاروں کو گھروں پر رکھنے سے متعلق قانونی ضابطوں کے بارے میں عملاﹰ کس طرح کے رویئے کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ خاص طور پر اس وجہ سے بھی کہ اگر کوئی شہری ایسا کوئی بھی مہلک ہتھیار اپنے بستر کے پاس کسی میز کے دراز میں رکھتا ہے تو وہ قانونی ضابطوں کی خلاف ورزی کا مرتکب ہوتا ہے۔"

جرمنی میں ہتھیاروں سے متعلقہ مروجہ قانون میں ان آئندہ ترامیم کے ذریعے حکومت اس امر کو یقینی بنانا چاہتی ہے کہ کسی بھی گھر میں لائسنس یافتہ آتشیں ہتھیار اُن کے مالکان کی رضامندی کے بغیر کسی نابالغ فرد کے ہاتھ نہ لگیں، تاکہ وِنَینڈن میں رونما ہونے والے المناک واقعے کے دوہرائے جانے کو روکا جاسکے۔