1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جرمنی میں گولن اور ایردوآن کے حامیوں کے مابین نفرت عروج پر

ترکی میں حکومت کا تختہ الٹنے کی حالیہ کوشش کے بعد جرمنی میں بھی ترک مبلغ فتح اللہ گولن اور ترک صدر رجب طیب ایردوآن کے حامیوں کے مابین نفرت عروج پر ہے۔ کوشش کی جا رہی ہے کہ دونوں دھڑوں کے درمیان کشیدگی بڑھنے نہ پائے۔

Bildkombo Fethullah Gülen / Tayyip Erdogan

ترک صدر رجب طیب ایردوآن اور ترک مبلغ فتح اللہ گولن

ایرکان کراکویُو ترک مبلغ فتح اللہ گولن کی ’حزمت تحریک‘ کی ’تعلیم اور مکالمت فاؤنڈیشن‘ کے چیئرمین ہیں۔ یہ بتاتے ہوئے اُن کی آواز جوش سے لرز رہی تھی کہ جرمنی میں بھی گولن کی تحریک کے ارکان کے خلاف سرگرمیاں زوروں پر ہیں: ’’صورتحال ڈرا دینے والی ہے۔ ہمارے مراکز پر پتھراؤ کیا گیا ہے، سپرے سے نعرے لکھے گئے ہیں، قتل کی دھمکیاں دی گئی ہیں۔‘‘ اُنہوں نے بتایا کہ خصوصاً سوشل میڈیا پر اور ایس ایم ایس پیغامات کے ذریعے گولن تحریک کے ارکان کو تعاقب کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

ایسی کارروائیوں کے لیے ’یونین آف ٹرکِش ڈیموکریٹس‘ UETD کو قصور وار قرار دیا جا رہا ہے، جو ایک طرح سے ایردوآن کی جماعت اے کے پی کے ایک لابی گروپ کے طور پر جرمنی میں سرگرم ہے۔ UETD نے ان الزامات کو رَد کر دیا ہے۔

ایرکان کراکویُو نے جرمن شہروں ہاگن، ڈوئزبرگ اور گنسبرگ میں پیش آنے والے تین واقعات کے حوالے سے بتایا کہ ’DITIB کی طرح کے مساجد کے منتظم اداروں نے بھی تختیاں لٹکا دی ہیں کہ گولن تحریک کے حامیوں کے لیے اب کمیونٹی میں کوئی جگہ نہیں ہے‘۔جرمنی میں تقریباً سات سو مساجد کے منتظم ادارے DITIB نے، جس کی ترکی کے مذہبی محکمے کے ساتھ قریبی وابستگی ہے، ان الزامات کو رد کیا ہے۔ اس تنظیم کی خاتون ترجمان عائشہ عائدین نے کہا کہ ’جو کوئی بھی کسی مسجد میں آ کر عبادت کرنا چاہے، ہم اُسے کبھی بھی منع نہیں کرتے‘۔

آج کل جرمنی میں بھی DITIB اور گولن کی ’تعلیم اور مکالمت فاؤنڈیشن‘ کے حامی ایک دوسرے کے خلاف صف آرا ہیں۔ بیرن یونیورسٹی کے ترک امور کے ماہر ڈاکٹر کرسٹوف رام کے خیال میں یہ بات باعثِ تعجب نہیں ہے: ’’ترک حکومت گولن تحریک کو دہشت گرد تحریک قرار دیتے ہوئے 2013ء سے پولیس، عدلیہ اور فوج سے اس کے حامیوں کو چُن چُن کر ہٹا رہی ہے۔‘‘ اُنہوں نے کہا کہ گولن کا حامی میڈیا بھی تطہیر کے اس عمل کا ہدف بن رہا ہے۔

Stuttgart türkisches Konsulat UETD

’یونین آف ٹرکِش ڈیموکریٹس‘ UETD کے حامی جرمن شہر اشٹٹ گارٹ میں مظاہرہ کرتے ہوئے

گولن کی ’حزمت تحریک‘ ایک سو چالیس ملکوں میں خصوصاً تعلیم کے شعبے میں سرگرم ہے تاہم ماہرین اس کے غیر شفاف مالیاتی ڈھانچےکے باعث اس تحریک کے اصل مقاصد کے حوالے سے شکوک و شبہات کا اظہار کر رہے ہیں۔

ماہرین کے خیال میں ترکی کے اندر گولن تحریک کے حامیوں کے خلاف اندھا دھند کارروائیاں کی جا رہی ہیں اور خطرہ ہے کہ جلد ہی یہ صورتِ حال جرمنی میں بھی ان دونوں دھڑوں کے حامیوں کو پوری طرح سے اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔