1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

جرمنی میں کرسمس کی رونقیں عروج پر

دُنیا بھر کی طرح آج کل یورپ میں بھی کرسمس کی آمد آمد ہے۔ یورپ کی سب سے بڑی معیشت جرمنی میں بھی اِس موقع پر خوب رونق ہے۔

default

جرمنی میں لوگ لاکھوں کی تعداد میں اپنے روایتی کرسمس بازاروں کا رُخ بھی کر رہے ہیں

عالمگیر اقتصادی بحران اور مشترکہ یورپی کرنسی یورو کو درپیش مشکلات کے باوجود جرمنی کی برآمدات میں اضافہ ہوا ہے اور وہاں بیروزگاری بھی کم ہوئی ہے۔ اِن مستحکم معاشی حالات کا عکس اِس سال جرمنی میں کرسمس کے موقع پر بھی نظر آ رہا ہے۔

یورپ میں دہشت گردی کے خطرات سے خبردار کئے جانے کے بعد جرمنی میں بھی کرسمس کے موقع پر حفاظتی انتظامات سخت کر دئے گئے ہیں۔ اس بار بہت زیادہ پولیس اہلکار شاہراہوں اور بازاروں میں دکھائی دے رہے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود جرمنی میں لوگ لاکھوں کی تعداد میں اپنے روایتی کرسمس بازاروں کا رُخ بھی کر رہے ہیں۔

Berlin im Winter Flash-Galerie 011

برف باری کی وجہ سے لگتا ہے کہ یورپی شہریوں کا وائٹ کرسمس کا خواب بھی پورا ہوتا نظر آ رہا ہے

ان بازاروں میں کھانا پینا ہوتا ہے، آپ دستکاری کے نمونے خرید سکتے ہیں، کرسمس کی خصوصی موسیقی بجتی رہتی ہے۔ اور یہ ایک طرح کے میلے سے کم نہیں ہوتیں۔

سب سے بڑی کرسمس مارکیٹ ہمیشہ کی طرح جنوبی جرمنی کے شہر نیوریمبرگ میں سجی ہے اور جب چوبیس دسمبر کو یہ بازار اپنے اختتام کو پہنچے گا تو اندازہ ہے کہ اِسے غیر ملکی سیاحوں سمیت کوئی اُنتیس لاکھ افراد دیکھ چکے ہوں گے۔ جرمنی میں ہر سال، ہر شہر میں مختلف مقامات پر کرسمس مارکیٹیں لگائی جاتی ہیں۔ نومبر کی ابتداء سے ان کی تعمیر کا کام شروع ہو جاتا ہے۔ شہر کے مختلف مقامات پر سینتاکلاؤس نصب کر دیئے جاتے ہیں۔ نومبر کے اواخر میں کرسمس مارکیٹوں کو عام شہریوں کے لئے کھول دیا جاتا ہے۔

دوسری قابلِ ذکر بات یہ کہ اِس سال غالباً لوگوں کے پاس پیسہ کافی ہے۔ شاپنگ سینٹرز میں بہت زیادہ رَش ہے۔

Deutschland Weihnachten Einzelhandel Dresden Einkauf

جرمنی میں اس مرتبہ تحائف کی وجہ سے مجموعی طور پر چودہ ارب یورو کا کاروبار ہونے کی امید کی جا رہی ہے

لوگ کرسمس کے موقع پر ایک دوسرے کے لئے خوب تحائف خرید رہے ہیں۔ ایک تازہ تحقیقی جائزے میں ترانوے فیصد جرمنوں نے کہا کہ وہ اس سال تحائف پر 245 یورو تک خرچ کریں گے۔ ایک اور اندازے کے مطابق ہر جرمن بچے کو اوسطاً 316 یورو کے تحائف ملیں گے۔ اس طرح صرف تحائف ہی کی وجہ سے مجموعی طور پر چودہ ارب یورو کا کاروبار ہونے کی امید کی جا رہی ہے۔

ایک تیسری بات، جو اِس سال مختلف نظر آ رہی ہے، وہ ہے سجاوٹ کے لئے بہت ہی زیادہ تعداد میں لگائی گئی روشنیاں۔ تقریباً ہر گھر، ہرعمارت رنگ برنگے قمقموں سے سجائی گئی ہے، ہزاروں میگا واٹ بجلی اِس چراغاں پر خرچ کی جا رہی ہے۔ اِس سال برفباری بھی بہت ہو رہی ہے اور یوں یورپی شہریوں کا وائٹ کرسمس کا خواب بھی پورا ہوتا نظر آ رہا ہے۔

رپورٹ: امجد علی

ادارت : عدنان اسحاق

DW.COM

ویب لنکس