جرمنی میں کتنے تارکین وطن غیر قانونی طور پر کام کر رہے ہیں؟ | مہاجرین کا بحران | DW | 14.09.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

جرمنی میں کتنے تارکین وطن غیر قانونی طور پر کام کر رہے ہیں؟

گزشتہ ماہ ایک جرمن عوامی نشریاتی ادارے نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا تھا کہ ملک بھر میں قریب تین لاکھ تارکین وطن غیر قانونی طور پر ملازمت کر رہے ہیں تاہم جرمن ٹریڈ یونین کا کہنا ہے کہ یہ اعداد و شمار درست نہیں ہیں۔

جرمنی میں بلا اجازت اور غیر قانونی طور پر کام کرنے والے تارکین وطن اور مہاجرین کی تعداد اندازوں سے کافی کم ہے۔ این ڈی آر نامی نشریاتی ادارے نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا تھا کہ جرمنی میں تین لاکھ تارکین وطن کے غیر قانونی طور پر کام کر رہے ہیں۔ جس تحقیقی مطالعے کی بنیاد پر یہ رپورٹ پیش کی گئی تھی، ماہرین اسے ناقص قرار دے رہے ہیں اور ان کے مطابق یہ رپورٹ حقیقی صورت حال سے مطابقت نہیں رکھتی۔

’تارکین وطن کو اٹلی سے بھی ملک بدر کر دیا جائے‘

جرمنی میں مہاجرین سے متعلق نئے قوانین

تارکین وطن کے غیر قانونی طور پر کام کرنے والے تارکین وطن اور مہاجرین کے بارے میں اعداد و شمار کے بارے میں جرمن ٹریڈ یونین سے تعلق رکھنے والی ایمیلیا میترووچ کا کہنا تھا، ’’میڈیا میں پیش کیے جانے والے اعداد و شمار بالکل بے بنیاد ہیں اور ملک میں (غیر قانونی طور پر کام کرنے والوں کی) تعداد بہت زیادہ نہیں ہے۔‘‘

میڈیا میں جس تحقیقی مطالعے کے بنیاد پر ان اعداد و شمار کا ذکر کیا جا رہا ہے اسے دو جرمن یونیورسٹیوں سے وابستہ محققین نے تیار کیا تھا اور اس مقصد کے لیے انہوں نے تین مختلف جرمن شہروں میں موجود پناہ گزینوں کے مراکز میں رہائش پذیر تارکین وطن کا سروے کیا تھا۔ تاہم ماہرین کے مطابق اس تحقیق کے لیے سائنسی، منظم اور معروضی طریقہ کار اختیار نہیں کیا گیا تھا۔ جرمن جریدے ’زائٹ‘ سے وابستہ ایک محقق کے مطابق، ’’تحقیق کے لیے جس نمونے کا انتخاب کیا گیا ہے وہ نہ تو درست ہے اور نہ ہی مجموعی طور پر تارکین وطن کی نمائندگی کرتا ہے۔ تحقیق کے لیے ایک غیر روایتی طریقہ اختیار کیا گیا تھا جس سے حقیقی صورت حال کی بجائے قیاس آرائی پر مبنی نتائج سامنے آئے ہیں۔‘‘

این ڈی آر نے اپنے رپورٹ میں یہ بات تسلیم کی تھی کہ تارکین وطن کے غیر قانونی طور پر کام کرنے کے بارے میں کوئی مصدقہ اعداد و شمار موجود نہیں ہیں تاہم رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا تھا کہ جس تحقیق کا حوالہ دے کر رپورٹ تیار کی گئی ہے وہ تحقیق ہی ناقص ہے۔ البتہ رپورٹ میں کچھ دیگر ذرائع کا حوالہ ضرور دیا گیا تھا۔

وفاقی دارالحکومت برلن اور صوبہ لوئر سیکسنی میں مہاجرین کی مدد کرنے والے رضاکاروں اور سماجی کارکنوں کی مدد سے تیار کردہ ایک رپورٹ کے مطابق ان دونوں وفاقی ریاستوں میں 10 سے لے کر 50 فیصد تک تارکین وطن ایسے ہیں جو غیر قانونی طور پر کام کر رہے ہیں۔ این ڈی آر سے وابستہ محققین کے مطابق مہاجرین کی ناقص معاشی صورت حال اور دگرگوں حالات کی وجہ سے پناہ گزینوں کے مراکز میں کام کرنے والے افراد ان مہاجرین کو غیر قانونی کام تلاش کرنے میں مدد کرتے ہیں۔

جو ملک بدری سے بچنے کے لیے دھوکا دے، اس کے لیے سزا کی تجویز

جرمنی نے اس سال اب تک کتنے پاکستانیوں کو پناہ دی؟

DW.COM