1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جرمنی میں چھ مہینوں میں مساجد، اسلامی مراکز پر تئیس حملے

جرمنی میں سال رواں کی پہلی ششماہی کے دوران سیاسی وجوہات کی بناء پر مسلمانوں کی مساجد اور دیگر اسلامی مراکز پر مجموعی طور پر تئیس حملے کیے گئے۔ یہ بات وفاقی جرمن پارلیمان کے ارکان کو ایک سوال کے جواب میں بتائی گئی۔

ملکی دارالحکومت برلن سے موصولہ خبر رساں ادارے کیتھولک نیوز ایجنسی کے این اے کی رپورٹوں میں جرمن جریدے ’دی وَیلٹ‘ کی ہفتہ پندرہ اگست کی اشاعت کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ جرمنی میں مسلمانوں کی عبادت گاہوں اور دیگر سماجی اور ثقافتی مراکز پر اس سال یکم جنوری سے لے کر تیس جون تک کے عرصے میں کیے جانے والے حملوں سے متعلق یہ تفصیلات وفاقی حکومت کی طرف سے بتائی گئیں۔ اس بارے میں بنڈس ٹاگ کہلانے والے ایوان زیریں میں وقفہ سوالات کے دوران ایک سوال بائیں بازو کی سیاسی جماعت ’دی لِنکے‘ کے پارلیمانی حزب کی طرف سے پوچھا گیا تھا۔

جرمن پارلیمان میں وفاقی حکومت کی طرف سے پیش کردہ اعداد و شمار کے مطابق اس سال کے پہلے چھ ماہ کے دوران ہی مبینہ طور پر ’جرمنی کی اسلامائزیشن‘ کے خلاف مختلف شہروں میں 64 ایسے احتجاجی مظاہروں اور ریلیوں کا اہتمام بھی کیا گیا، جن کے یا تو منتظم دائیں بازو کے انتہا پسند عناصر تھے یا پھر جو ایسے عناصر کے اثر و رسوخ کی وجہ سے ممکن ہوئے تھے۔

جرمنی میں مسلمانوں کی رابطہ کونسل، ملکی پولیس کی وفاقی ٹریڈ یونین اور بائیں بازو کی جماعت ’دی لِنکے‘ کی داخلہ سیاسی امور کی پارلیمانی ترجمان خاتون اُولا ژَیلپکے Ulla Jelpke نے مطالبہ کیا ہے کہ ملک میں سیاسی وجوہات کی بناء پر مسلمانوں کے خلاف ایسے جرائم کو آئندہ ’اسلام دشمنی‘ پر مبنی واقعات کے طور پر رجسٹر کیا جائے۔

جرمن پولیس کی ٹرید یونین GdP کے وفاقی سطح پر نائب سربراہ ژورگ راڈَیک کے بقول مسلمانوں کے خلاف ایسے جرائم یا پرتشدد واقعات کو سیاسی پس منظر میں دیکھنے کی بجائے اسلام دشمنی کے تناظر میں دیکھنے سے یہ تبدیلی آئے گی کہ ملک میں اس حوالے سے صورت حال کا درست اندازہ لگانے میں آسانی ہو گی۔ ژورگ راڈَیک نے ’دی وَیلٹ‘ کو بتایا کہ اس طرح یہ بھی پرکھا جا سکے گا کہ آیا ملک میں ایسے مجرمانہ اور قابل سزا ’مسلم مخالف‘ واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

Symbolbild Islamophobie in Deutschland

جرمن معاشرے کی ’اسلامائزیشن‘ کے خلاف دائیں بازو کے انتہا پسندوں کا ایک احتجاجی مظاہرہ، فائل فوٹو

’دی لِنکے‘ کی داخلہ سیاسی امور کی پارلیمانی ترجمان اُولا ژیلپکے نے بھی اس بارے میں کہا ہے کہ جب تک اسلام دشمنی پر مبنی واقعات سے متعلق اعداد و شمار کو سیاسی وجوہات کی بنا پر پیش آنے والے مجرمانہ نوعیت واقعات سے الگ کر کے ریکارڈ نہیں کیا جاتا، تب تک جرمن معاشرے میں اسلام دشمنی پر مبنی جرائم کا شماریاتی حوالے سے درست اندازہ لگانا ممکن نہیں ہو گا۔

اس موضوع پر جرمن پارلیمان میں جو اعداد و شمار پیش کیے گئے، ان کی ذمے دار وہ ’وزرائے داخلہ کانفرنس‘ ہے، جو وفاقی وزیر داخلہ کے علاوہ ملک کے تمام سولہ صوبائی وزرائے داخلہ پر مشتمل ہوتی ہے۔ یہ کانفرنس اب تک جو اعداد و شمار جمع کرتی ہے، ان میں صرف مساجد یا اسلامی تنصیبات و مراکز پر حملوں اور ان اسلام دشمن مظاہروں اور ریلیوں کا ریکارڈ رکھا جاتا ہے، جو دائیں بازو کے انتہا پسندوں یا ان کے اثر و رسوخ کی وجہ سے ممکن ہوئے ہوں۔

DW.COM