1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

جرمنی میں پیئرسنگ کے نئے رجحانات

ایشیا کے بہت سے ملکوں میں جلد کوکھینچ کر چھدوانے یا پیئرسنگ کا رجحان ہزاروں سال سے پایا جاتا ہے۔ کئی افریقی اور لاطینی امریکی ملکوں میں آج بھی اپنے جسموں کو مختلف زیورات سے سجانے کی اس روایت کی تقلید کی جا رہی ہے۔

default

کان کے نچلے حصے کو کھنیچ کر چھدوانے کو ٹنل کہا جاتا ہے

مغربی ممالک میں پیئرسنگ کرانے کا آغاز کافی عرصے بعد شروع ہوا۔ کہا جاتا ہے کہ زیادہ ترلوگ کان چھدوانا پسند کرتے ہیں اور پیئرسنگ کا یہی رجحان مغرب کے نوجوانوں میں بھی بہت مقبول ہے۔

طریقہ کار کچھ یوں ہوتا ہے کہ سب سے پہلے کان پرایک کریم لگائی جاتی ہے تاکہ اسے چھیدنے میں آسانی ہو سکے پھر چھیدنے کے آلات کو بھی خاص طرح سے گیلا کرنا پڑے گا۔ جس کے بعد اس کو کان کے سرے پر رکھ کر دبایا جائے گا اوربس۔

Tattoo Convention Schweiz Piercing

برازیل کی الینے ڈیوڈ سن دنیا میں سب سے زیادہ پیئرسنگ کرانے والی خاتون ہیں

انا نام کی ایک لڑکی شہر بون کے ایک پیئرسنگ اسٹوڈیو میں کام کرتی ہے۔ وہ بتاتی ہے کہ آجکل کان کے نچلے حصے کو کھینچ کر سوراخ کروانے کو بہت پسند کیا جا رہا ہے۔ کان میں اس طرح سوراخ کروانے کو ٹنل کہا جاتا ہے۔ اس میں کان میں دس سے بارہ ملی میٹر چوڑا سوراخ کیا جاتا ہے۔ ساتھ ہی زبان چھدوانے یا ٹنگ پئیرسنگ کا رواج بھی بڑھ رہا ہے۔

انا کی عمر بیس سال ہے اور پیئرسنگ کی تربیت حاصل کر رہی ہے۔ اس کی بھنوؤں میں کئی چھلے دیکھے جا سکتے ہیں اس کے علاوہ ناک، ہونٹ بھی خالی نہیں ہیں اور دونوں کانوں میں دس سے بارہ ملی میٹر کے سوراخ یعنی ٹنل ہیں۔ اس کا کہنا ہے کہ وہ چالیس ملی میٹر تک کا سوراخ کروانا چاہتی ہے لیکن اگر کان کا سوراخ تیس ملی میٹر سے زیادہ ہو تو اس میں پہننے کے لئے زیور مشکل ہی سے دستیاب ہوتا ہے۔

Deutschland Frau mit Bauchnabel Piercing

خواتین میں ناف میں پیئرسنگ کرانے کا رجحان بہت زیادہ ہے

انا نے مزید بتایا کہ کان کے نچلے حصے کی جلد بہت حساس ہوتی ہے اور اسے کھنچ کر بڑا کرنے میں وقت لگتا ہے۔ جرمنی میں گزشتہ ایک دو برسوں ہی سے کانوں میں ٹنل بنوانے کا رجحان بڑھ گیا ہے۔ انا کے پاس آنے والے زیادہ تر نوجوان ہوتے ہیں۔ اگر کوئی اٹھارہ سال سے کم ہو تو اسے والدین کا اجازت نامہ ساتھ لانا ضروری ہے۔ انا کے بقول بڑی عمر کے لوگ بھی ٹنل بنوانے آتے ہیں۔ پیئرسنگ کرانے کا صرف ایک مقصد ہوتا ہے اور وہ ہے دوسروں سے الگ نظر آنا اور اپنے اعتماد میں مزید اضافہ کرنا۔ صرف اسی لئے یہ افراد تکلیف برداشت کرتے ہیں اور یہ اپنی صحت کے حوالے سے خطرات مول لیتے ہیں۔ اگر پیئرسنگ کے دوران کوئی غلطی ہو جائے، تو زندگی بھر سوجن کا خطرہ ہوتا ہے۔

رپورٹ: عدنان اسحاق

ادارت : گوہر نذیر