1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جرمنی میں پولستانی بس حادثے کا شکار ، تیرہ ہلاک

پولستانی وزیراعظم ڈونلڈ ٹسک نے جرمنی میں ایک ٹریفک حادثے میں ہلاک ہونے والے پولش باشندوں کی موت پر تعزیت اور زخمیوں کی عیادت کے لئے جرمنی کا خصوصی دورہ کیا ہے۔

default

امدادی ہیلی کاپٹر زخمیوں کو پسپتال لے جاتے ہوئے

اتوار کو جرمن دارالحکومت برلن کے نواح میں ایک ٹریفک حادثے میں تیرہ پولستانی باشندے ہلاک جبکہ درجنوں زخمی ہو گئے تھے۔ جرمن پولیس کے مطابق ایک مسافر بس 47 پولستانی سیاحوں کو سپین سے واپس پولینڈ لے جا رہی تھی کہ صبح کے وقت جرمنی میں حادثے کا شکار ہو گئی تھی۔

ابتدائی تحقیقات کے مطابق یہ بس ہائی وے پر ایک کار کو بچانے کی کوشش میں بارش کے باعث پھسل کر ایک پل سے ٹکرا گئی تھی۔ یہ حادثہ جرمنی کے مشرقی صوبے برانڈن برگ میں برلن سے کوئی تیس کلو میٹر دور پیش آیا تھا۔

NO FLASH Busunfall bei Berlin

حادثے کا شکار ہونے والی بس

جرمن پولیس کے مطابق اس حادثے کے نتیجے میں انیس افراد بری طرح زخمی ہوئے جبکہ بیس کو معمولی چوٹیں آئیں۔ پولش میڈیا کے مطابق حادثے کا شکار ہونے والی بس کی ڈرائیور ایک 37 سالہ خاتون تھی۔

پولینڈ کے وزیراعظم ڈونلڈ ٹسک اس حادثے کے بعد ایک خصوصی پرواز کے ذریعے جرمنی پہنچے، جہاں انہوں نے حادثے کی جگہ کا دورہ کرنے کے علاوہ زیر علاج زخمیوں کی عیادت بھی کی۔

برلن میں پولینڈ کے سفارت خانے کے ذرائع نے خبر رساں ادارے AFP کو بتایا کہ اس بس میں 47 مسافر سوار تھے، جن میں سے دو اس بس کے ڈرائیور تھے۔ سفارت خانے نے تصدیق کی ہے کہ سیاحوں کی یہ بس سپین سے واپس پولینڈ جا رہی تھی۔

حادثے کے فوراﹰ بعد جرمن امدادی کارکن جائے حادثہ پر پہنچ گئے تھے۔ بتایا گیا ہے کہ کُل قریب 300 امدادی کارکنوں نے ایمبولینس ہیلی کاپٹروں کے ذریعے زخمیوں کو قریبی ہسپتالوں میں منتقل کرنے میں مدد کی۔

جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے پولستانی وزیر اعظم کے ساتھ تعزیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ برلن حکومت زخمیوں کا بہترین علاج کرائے گی۔ برلن کے گورننگ میئر کلاؤس ووویرائٹ نے بھی اس حادثے پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔

NO FLASH Busunfall am Schönefelder Kreuz

پولستانی وزیر اعظم ڈونلڈ ٹسک جائے حادثہ پر

دریں اثناء اس حادثے کی اصل وجوہات جاننے کے لئے تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔ پولستانی حکام نے کہا ہے کہ وہ بھی اپنے طور پر اس حادثے سے متعلق تحقیقات کروائیں گے۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: مقبول ملک

DW.COM