1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

جرمنی میں پناہ گزینوں کے شیلٹر ہاؤسز پر حملوں میں اضافہ

جرمنی میں مہاجرین کے شیلٹر ہاؤسز پر رواں برس کیے گئے مختلف قسم کے حملوں کی تعداد گزشتہ برس کے مقابلے میں دوگنی سے بھی زیادہ ہو گئی ہے۔

ایک اندازے کے مطابق رواں سال جرمنی میں آٹھ لاکھ مہاجرین کی آمد متوقع ہے۔ ان میں سے زیادہ تر تعداد شام، عراق اور دیگر شورش زدہ علاقوں سے ہجرت کر کے جرمنی کا رخ کرنے والوں کی ہے جبکہ اقتصادی وجوہات کی بنا پر جرمنی آنے والوں کی تعداد میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہو رہا ہے۔ اب تک جرمنی پہنچنے والے مہاجرین کی اکثریت کا تعلق مسلم ممالک سے ہے۔

DW.COM

گزشتہ برس جرمنی میں اسلام مخالف تحریک پگیڈا نے یورپ کے اسلامیائے جانے کے خلاف احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شروع کیا تھا، جس کے بعد سے جرمنی میں بالعموم غیرملکیوں اور بالخصوص مسلمانوں کے خلاف حملوں میں اضافہ ہوا۔ موجودہ برس غیر ملکی پناہ گزینوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ جرمنی میں معاشرتی سطح پر پائے جانے والے تناؤ میں اضافے کا سبب بھی بن رہا ہے۔ پناہ گزینوں کی آمد کے خلاف احتجاج اور کچھ شہروں میں مہاجرین کے شیلٹر ہاؤسز پر حملوں میں بھی اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

جرمنی کی وفاقی کرمینل پولیس کی ترجمان ساندرہ کلیمنز نے خبررساں ادارے روئٹرز سے کی گئی ایک گفتگو میں بتایا کہ ’’گزشتہ کچھ مہینوں میں مہاجرین کےخلاف جرائم کی تعداد اور شدت میں اضافہ ہوا ہے۔‘‘ جرمن پولیس نے بتایا ہے کہ سن 2014 میں ایسے حملوں کی تعداد دو سو تھی جب کہ رواں برس کے دوران یہ تعداد 437 تک پہنچ چکی ہے۔

رواں سال مہاجرین کے خلاف پرتشدد جرائم کی تعداد انسٹھ ہو چکی ہے جبکہ گزشتہ برس ایسے جرائم کی تعداد چھبیس تھی۔ پولیس نے اب تک ان جرائم کے ارتکاب کے الزام میں چھبیس مشتبہ افراد کو حراست میں لیا ہے جبکہ پانچ سو مزید مشتبہ حملہ آوروں کی بھی شناخت کر لی گئی ہے۔ پولیس کے مطابق مشتبہ افراد کی عمریں اٹھارہ اور پچیس برس کے درمیان ہیں اور ان کا تعلق انہی علاقوں سے ہے، جہاں پناہ گزینوں کے خلاف جرائم کا ارتکاب ہوا۔

پولیس کی جانب سے اعداد و شمار جرمن صدر یواخم گاؤک کی اتوار کی اس تقریر کے بعد سامنے آئے، جس میں انہوں نے مہاجرین کے بحران کے حوالے سے تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’ہم مدد کرنا چاہتے ہيں۔ ہمارا دل بڑا ہے۔ البتہ ہم کيا کچھ کر سکتے ہيں، اِس کی ايک حد ہے‘۔

Salzhemmendorf Brandanschlag Flüchtlingsheim

’گزشتہ کچھ مہینوں میں مہاجرین کےخلاف جرائم کی تعداد اور شدت میں اضافہ ہوا ہے‘

جرمنی کے معروف جریدے ڈئیر اشپیگل میں شائع کیے گئے ایک سروے کے مطابق مہاجرین کے بحران کے حوالے سے نرم رویہ اپنانے پر جرمن چانسلر انگیلا میرکل کی مقبولیت میں بھی کمی آئی ہے۔

جرمن صوبے باویریا میں انگیلا میرکل کے حکومتی اتحادیوں اور بعض مشرقی یورپی ممالک کی جانب سے انگیلا میرکل پر الزام لگایا جاتا ہے کہ انہوں نے شامی مہاجرین کو جرمنی آنے کے لیے ایک طرح سے گرین سگنل دے دیا، جو یورپ میں مہاجرین کے موجودہ بحران کا سبب بن رہا ہے۔