1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

جرمنی میں پناہ کی در‌خواست دینے سے پناہ ملنے تک کے مراحل

جرمنی میں پناہ کے لیے درخواست دائر کرتے وقت مہاجرین کیا توقعات رکھ سکتے ہیں؟ پناہ کی درخواست دینے سے لے کر پناہ ملنے تک ایک تارکِ وطن کو جن مراحل سے گزرنا پڑتا ہے اُن کی تفصیلات اس مضمون میں ملاحظہ کیجیے۔

پناہ کی تلاش میں جرمنی پہنچنے والے تمام ہی تارکینِ وطن پناہ کے حصول کے حقدار نہیں ہوتے۔ تاہم جرمن قانون کے تحت  مہاجرین کے لیے پناہ کی فراہمی کے مختلف درجات ہیں۔ تارکین وطن کو ان درجات میں اُن کے آبائی وطن اور واپس لوٹنے پر وہاں اُن کی زندگیوں کو لاحق خطرات کی شرح کے تناسب سے پرکھا جاتا ہے۔

جرمنی کے وفاقی دفتر برائے مہاجرت اور ترک وطن یا (BAMF) کے مطابق اسائلم سِیکر یعنی ’پناہ کے طالب‘، اسائلم ایپلیکینٹ، یعنی ’پناہ کے درخواست دہندہ‘ اور ’تحفظ کے حقدار افراد ‘ اور ’ جرمنی میں قیام کے حقدار افراد‘ کے درمیان فرق ہے۔

’پناہ کے متلاشی‘ سے کیا مراد ہے

BAMF کے مطابق پناہ کے طالب وہ افراد ہیں جو پناہ کی درخواست دائر کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تاہم ابھی تک اس دفتر کی جانب سے انہیں بطور درخواست دہندہ رجسٹر نہیں کیا گیا۔

’پناہ کے درخواست دہندگان‘ کون ہیں

جرمنی کے وفاقی دفتر برائے مہاجرت اور ترک وطن  کے مطابق ایسے مہاجرین جن کی در‌خواستیں اس ادارے کے پاس ہی ہیں اور جن کی بطور مہاجر کسی طرح کی حیثیت کے حوالے سے ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا، اسائلم ایپلیکینٹ یا ’پناہ کے درخواست دہندگان‘ کہلاتے ہیں۔

'پناہ کے حقدار‘ اور ’رہنے کے حقدار‘ کی گیٹیگری میں وہ افراد آتے ہیں جنہیں یا تو جرمن ریاست کی طرف سے بطور مہاجر تسلیم کر لیا گیا ہے یا پھر اُنہیں تحفظ کا کوئی دوسرا درجہ تفویض کر دیا گیا ہے۔

بطور تسلیم شدہ مہاجر تحفظ

'مہاجر‘ کی اصطلاح عموماﹰ ایسے شخص کے لیے استعمال کی جاتی ہے جو جان کے خوف سے اپنے وطن سے فرار ہو کر محفوظ ملک کا رخ کرتا ہے۔ تاہم جنیوا ریفیوجی کنونشن کے مطابق، ’’ایک مہاجر وہ شخص ہے جسے اپنے ملک میں حکومتی یا غیر ریاستی عناصر کی جانب سے اپنی قومیت، زبان، مذہب ، سیاسی رائے یا کسی مخصوص سماجی گروپ سے تعلق رکھنے کی بنا پر مارے جانے کا خوف ہو۔‘‘

قانونی حقوق

قانونی زبان میں بات کی جائے تو  ’مہاجر‘ اُس شخص کو کہیں گے جس کی پناہ کی درخواست کا عمل مکمل ہونے کے بعد اسے ریفیوجی تحفظ دیا جا چکا ہوتا ہے۔ ’تسلیم شدہ مہاجر‘ کا اسٹیٹس ملنے کے بعد تین سال کا رہائشی اجازت نامہ بھی مل جاتا ہے۔

 اس ابتدائی مدت کے بعد مہاجر مرد یا خاتون مزید تین یا پانچ سال کے لیے رہائشی اجازت نامے کے حقدار ہو سکتے ہیں اگر اس مدت میں وہ مناسب حد تک جرمن زبان سیکھ لیں اور اتنا کما سکتے ہوں جس سے وہ اپنے اخراجات برداشت کر سکیں۔

'مہاجر‘ کی حیثیت کے حامل مرد یا خاتون کو نہ صرف جاب مارکیٹ تک لامحدود رسائی حاصل ہو جاتی ہے بلکہ اپنے خاندان کو جرمنی بلانے کی سہولت بھی مل جاتی ہے۔ اس کے معنی یہ ہوئے کہ ’مہاجر‘ کی حیثیت کے حامل فرد کو اس بات کا ثبوت دینے کی ضرورت نہیں ہوتی کہ اپنے اہل و عیال کی کفالت کے لیے اُن کے پاس مناسب معاشی ذرائع موجود ہیں۔ خاندان میں مہاجر فرد کی بیوی یا شوہر، چھوٹے بچے اور غیر شادی شدہ بچے شامل ہیں۔

اسائلم یا سیاسی پناہ

جرمنی کا وفاقی دفتر برائے مہاجرت اور ترک وطن ’مہاجر‘ اور پناہ کے حقدار شخص میں فرق کرتا ہے۔ سیاسی پناہ صرف ایسے فرد کو دی جاتی ہے جسے سیاسی بنیادوں پر اپنے ملک میں مظالم کا سامنا ہو اور واپس لوٹنے پر وہ انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزیوں کا شکار ہو سکتا ہو۔ علاوہ ازیں اُس کے اپنے ملک میں بھی اس کے لیے پناہ کی صورت ممکن نہ ہو۔

BAMF کے مطابق غربت، خانہ جنگی، قدرتی آفات اور ان جیسی دیگر وجوہات پر سیاسی پناہ نہیں دی جا سکتی۔ صرف ریاستی ظلم و تشدد کو ہی سیاسی پناہ کا جواز مانا جاتا ہے۔

اسائلم حاصل کرنے والوں کے قانونی حقوق

سیاسی پناہ حاصل کرنے والے افراد کو بھی تمام وہی قانون حقوق حاصل ہیں جو ریفیوجی اسٹیٹس کے زمرے میں آنے والے افراد کے لیے اوپر بیان کیے گئے ہیں۔

سبسڈری پروٹیکشن یا ضمنی تحفظ

ضمنی تحفظ کسی فرد کو اُس وقت دیا جاتا ہے جب وہ نہ تو سیاسی پناہ اور نہ ہی مہاجر کے اسٹیٹس کا حقدار ہو تاہم اس کے باوجود وطن واپسی پر اُسے ریاستی اور غیر ریاستی عناصر کی جانب سے جان کا خطرہ ہو۔ ان خطرات میں سزائے موت دیے جانا، تشدد اور ملکی یا بین الاقوامی تنازعات کے باعث ہلاکت کے خدشات شامل ہیں۔

قانونی حقوق

ضمنی تحفظ حاصل کرنے والا فرد ابتداء میں ایک سال کے رہائشی ویزے کا حقدار ہوتا ہے جس کے بعد اس کی دو دو سال کے لیے تجدید کی جا سکتی ہے۔ بعد ازاں جرمن زبان پر مناسب دسترس اور قابلِ قبول آمدنی کے ثبوت فراہم کرنے پر اُسے پانچ سال تک جرمنی میں رہنے کا حق حاصل ہو جاتا ہے۔ ضمنی تحفظ کا حامل فرد جرمنی میں ملازمت تو کرسکتا ہے تاہم اپنے خاندان کو بلانے کا حقدار نہیں۔

ملک بدری پر پابندی

اگر کسی فرد کو جرمنی میں کسی طرح کے تحفظ کا حقدار نہ سمجھا جائے تب بھی وہ مخصوص شرائط پر جرمنی میں رہ سکتا ہے۔ ان شرائط میں وطن واپسی پر اُس کی آزادی سلب ہونے، کسی عضو کے ضائع ہونے یا زندگی کو لاحق خطرات شامل ہیں۔ ملک بدری اُس صورت میں بھی نہیں ہو گی اگر ایسے کسی شخص کو لاحق کوئی بیماری ملک واپسی پر سنگین ہونے کا خدشہ ہو۔

قانونی حقوق

جرمنی میں رہنے کا حق رکھنے کے حامل فرد کو ایک سال کا رہائشی اجازت نامہ جاری کیا جاتا ہے جو قابل تجدید ہوتا ہے۔ پانچ برس بعد اگر یہ فرد جرمن زبان میں مہارت کے ساتھ ساتھ اپنی کفالت بہتر طریقے سے کر لیتا ہے تو اسے پانچ سال کا رہائشی اجازت نامہ دیا جاتا ہے۔ تاہم اسے اپنے خاندان کو جرمنی بلانے کی اجازت نہیں ہوتی۔

'مہاجر‘ کی مختلف حیثیتوں کے لیے رہائشی اجازت نامے

'آؤفینٹ ہالٹس ارلاؤبنس‘ یا رہائشی اجازت نامہ

اس پرمٹ کے اجراء کے بعد جرمنی میں رہائش کے ساتھ کام کرنے کی اجازت بھی حاصل ہو جاتی ہے۔ اس پرمٹ کے تحت ایک سے تین سال تک کے لیے جاری ہونے والے مختلف ویزوں کو مخصوص شرائط پوری ہونے پر طویل المیعاد رہائشی ویزے میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔

’آؤفینٹ ہالٹس گیشٹاٹنگ‘ یا رہنے کی اجازت

وہ تارکین وطن جن کی پناہ کی درخواستوں پر عمل ابھی جاری ہوتا ہے، انہیں اس اجازت نامے کے تحت جرمنی میں قانونی طور پر رہنے اور مخصوص شرائط کے تحت کام کرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔

ڈُلڈُنگ

جرمنی میں رہنے کا یہ اجازت نامہ ایسے افراد کو دیا جاتا ہے جن کی پناہ کی درخواستیں تو مسترد ہو چکی ہوں لیکن جنہیں اُن کے ملک واپس بھیجنا ممکن نہ ہو۔ تاہم ڈلڈنگ کے حامل افراد کو جرمنی میں کام کرنے کے لیے امیگریشن حکام سے اجازت لینے کی ضرورت ہوتی ہے۔

DW.COM