1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

جرمنی میں پناہ کی درخواستوں پر کارروائی ’سست روی کا شکار‘

جرمنی آنے والے تارکین وطن اور مہاجرین کی پناہ کی درخواستوں پر کارروائی سستی روی کا شکار ہو گئی ہے۔ ایک نئی رپورٹ کے مطابق اس سست رفتاری کی وجہ جرمنی کے وفاقی دفتر برائے ترک وطن اور مہاجرین میں ملازمین کی کمی بن رہی ہے۔

خبر رساں ادارے کے این اے نے جرمن اخبار ’نیورمبرگر نیوز‘ کی ایک رپورٹ کے حوالے سے بتایا ہے کہ رواں برس کے آغاز پر  جرمنی کا وفاقی دفتر برائے ترک وطن اور مہاجرین (BAMF) ماہانہ اوسطاﹰ پچاس ہزار درخواستیں نمٹا رہا تھا تاہم اب صورتحال کچھ بدل گئی ہے۔

پناہ کے ناکام متلاشیوں کو واپس لو، ورنہ ویزا پابندیاں بھگتو

جرمن حکومت نے ایک لاکھ فیملی ری یونین ویزے جاری کیے

مہاجرین کو حقیقی شناخت چھپانے کا فائدہ یا نقصان؟

ویڈیو دیکھیے 01:15

مہاجرین کو گھر میں خوش آمدید کہیے

اس جرمن اخبار نے اکتیس اکتوبر بروز منگل شائع ہونے والی اپنی ایک رپورٹ میں حکومتی اعداد و شمار کے حوالے سے بتایا کہ سن دو ہزار سترہ کے آخری مہینوں میں مہاجرین کی پناہ کی درخواستوں پر دفتری کارروائی کی شرح نصف سے بھی کم ہو گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اب ماہانہ اوسطاﹰ پندرہ تا اٹھارہ ہزار درخواستیں ہی نمٹائی جا رہی ہیں۔

اخبار Nürnberger Nachrichten نے اکتوبر میں لکھے گئے ایک حکومتی خط کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ اس صورتحال میں تب پراسیس کی جانے والی ایسی درخواستوں کی تعداد چوالیس ہزار ہو چکی تھی، جنہیں رواں برس ہی نمٹایا جانا تھا۔ تاہم ستمبر میں ان درخواستوں کی تعداد باون ہزار تک پہنچ گئی، جن میں سن دو ہزار پندرہ کی کچھ درخواستیں بھی شامل تھیں۔

یہ امر اہم ہے کہ اس دوران جرمنی میں مزید تارکین وطن اور مہاجرین کی آمد بھی دیکھنے میں آئی، جو اس ملک میں قیام کی خاطر درخواستیں جمع کرا رہے ہیں۔ ایک اندازہ ہے کہ سن دو ہزار سترہ میں ایسے نئے مہاجرین کی مجموعی تعداد اڑتالیس ہزار کے لگ بھگ رہے گی۔

اس رپورٹ کے مطابق پناہ کی ان درخواستوں پر سرکاری کارروائی میں سستی کی وجہ جرمنی کے وفاقی دفتر برائے ترک وطن اور مہاجرین میں ملازمین کی کمی بن رہی ہے۔ سن دو ہزار سترہ کے آغاز پر اس وفاقی ادارے میں کام کرنے والے ملازمین کی تعداد تقریباﹰ دس ہزار تھی تاہم ملازمتوں میں کٹوتیوں کے سبب ستمبر میں وہاں کام کرنے والے ملازمین کی تعداد 7800 رہ گئی تھی۔

DW.COM

Audios and videos on the topic