جرمنی میں پناہ کی درخواستوں پر عمل درآمد  کی مدت بڑھ گئی | مہاجرین کا بحران | DW | 13.01.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

جرمنی میں پناہ کی درخواستوں پر عمل درآمد  کی مدت بڑھ گئی

ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جرمنی میں مہاجرین کی جانب سے پناہ کے لیے دائر درخواستوں پر عمل در آمد کی رفتار سست ہو گئی ہے۔ نئے تخمینے کے مطابق یہ مدت اوسطاﹰ 10.7 ماہ تک بڑھ گئی ہے۔

جرمن اخبار، ’نوئے اوزنا بروکر سائٹُنگ‘ نے وفاقی جرمن ادارہ برائے مہاجرت یا ’بَمف‘ کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا ہے کہ پناہ کی درخواستوں پر عمل درآمد کی یہ شرح سن 2016 کی شرح کے مقابلے میں سست روی کا شکار ہوئی ہے، جب مہاجرین کو اپنی درخواستوں پر فیصلے کا انتظار اوسطاﹰ 7.1 ماہ تک ہی کرنا ہوتا تھا۔

 اسی طرح سن 2015 کے مقابلے میں سن 2017 میں درخواستوں پر فیصلوں نے تقریباﹰ دو گنا وقت لیا ہے جب ایسی درخواستوں پر فیصلے میں 5.2 مہینے سے زیادہ وقت نہیں لگتا تھا۔

رپورٹ کے مطابق فیصلوں میں زیادہ وقت لگنے کی وجوہات میں ایک تو عرصے سے جمع ہوئی درخواستوں کی ایک بڑی تعداد ہے دوسرے بعض کیسز بھی پیچیدہ نوعیت کے ہیں۔

مہاجرین کے لیے جرمن وفاقی ادارے نے اخبار ’نوئے اوزنا بروکر سائٹنگ‘ کو مزید بتایا،’’ پناہ کی درخواستوں پر عمل میں پہلے سے زیادہ وقت لگنے کی ایک خاص وجہ یہ بھی ہے کہ کئی ایسے مقدمات کو بند کر دیا ہے جو ایک عرصے سے التوا میں پڑے تھے۔‘‘

   پیچیدہ مقدمات کے حوالے سے چھان بین میں یقینی طور پر وقت لگتا ہے۔ بعض اوقات کسی خاص کیس میں طبی رپورٹوں کی بھی ضرورت پڑتی ہے۔ بارہا ایسا ہوتا ہے کہ طریقہ کار کے دوران پاسپورٹ یا دوسری دستاویزات دستیاب نہیں ہوتیں جس سے فیصلوں میں تاخیر ہوتی ہے۔

DW.COM