1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جرمنی میں پانچ سکھوں پر فرد جرم عائد

جرمن استغاثہ کے مطابق جن پانچ سکھوں پر فرد جرم عائد کی گئی ہے، وہ انٹرنیشنل دہشت گرد گروپ کے اراکین ہیں اور تین مشتبہ سکھ آسٹریا اور بھارت میں اپنے سیاسی مخالفین کو ہلاک کرنے کی ممکنہ سازش میں شریک تھے۔

default

ویانا میں گوردوارے کے باہر کھڑے سکھ

ان مشتبہ سکھ افراد کا تعلق جرمنی اور بھارت سے ہے۔ ان کی عمریں 30 اور 41 برس کے درمیان بتائی گئی ہیں۔ ان پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ دہشت گرد تنظیم خالصتان زندہ باد فورس (KZF) کے ممبران ہیں۔ خالصتان زندہ باد فورس نامی تنظیم جنوبی ایشیا میں ایک خود مختار اور آزاد سکھ ریاست کا مطالبہ کرتی ہے۔ جن پانچ افراد پر فرد جرم عائد کی گئی ہے، ان میں سے تین ابھی تک مفرور ہیں۔ دو افراد کو گزشتہ سال جولائی میں گرفتار کیا گیا تھا۔ گرفتار ہونے والے دونوں افراد تنظیم کے مقامی گروہ کے لیڈر خیال کیے جاتے ہیں۔

گرفتار ہونے والے دونوں افراد جرمنی میں مقیم تھے۔ تفتیش کاروں کے مطابق ان کی سرگرمیوں کا علاقہ مغربی رائن اور مائن دریاؤں کے درمیان کا ہے۔ ان کے مقدمے کو فرینکفرٹ کی مقامی عدالت میں پیش کیا گیا ہے۔ اب اس عدالت نے فیصلہ کرنا ہے کہ ان مقید افراد کے خلاف باقاعدہ لگائے گئے الزامات کے تحت عدالتی عمل آگے بڑھایا جائے یا نہیں۔

Sant Niranjan Das in einem Krankenhaus in Wien

سنت نرنجن داس کو سن 2009 میں آسٹریا میں مخالف سکھوں نے گولی سے زخمی کیا تھا

اس مشتبہ دہشت پسند گروپ کے لیڈران کے نام بھوپندر سنگھ اور گورمیت سنگھ ہیں۔ ان کے ساتھ ایک جرمن مندیپ سنگھ بھی شامل ہے۔ ان افراد کی کوشش تھی کہ کسی طرح مخالف سکھ گروپ کے آسٹریا مقیم لیڈر کو ہلاک کردیا جائے۔ الزام کے تحت ان میں سے گورمیت سنگھ نے بندوق اور بارود حاصل کر لیا تھا۔ جرمن باشندے مندیپ سنگھ کے ذمہ یہ کام تھا کہ وہ گورمیت کوکسی طرح سے ہیمبرگ کے راستے آسٹریا پہنچائے۔ اسلحے کی ترسیل کا عمل مکمل ضرور ہوا لیکن جس دن قتل کی واردات مکمل کی جانی تھی وہ اس باعث ناکام ہوئی کہ مخالف لیڈر جہاں موجود تھا، وہاں پولیس کی بڑی نفری تعینات تھی۔

جرمن استغاثہ کے مطابق اس گروپ کے دو اراکین جرمنی میں سن 2009 سے سرگرم تھے۔ ان افراد کے خالصتان زندہ باد فورس تنظیم کے پاکستان اور بھارت میں مقیم افراد سے باقاعدہ رابطے بھی تھے۔ ان پر یہ الزام بھی عائد کیا گیا ہے کہ یہ اسلحے کی خرید کے لیے سرمائے کی منتقلی میں ملوث تھے۔ دو دیگر مطلوب افراد کے نام جگتار سنگھ اور سُکھپریت سنگھ ہیں۔ یہ بھی اسلحے کی خریداری میں ملوث ہیں۔ ان افراد کے مکمل نام جرمن پرائیویسی قانون کے تحت مخفی رکھے گئے ہیں۔

رپورٹ: عابد حسین ⁄ خبر رساں ادارے

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM

ویب لنکس