1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جرمنی میں پانچ سو سے زائد مشتبہ افراد حملہ کر سکتے ہیں، وزیر داخلہ

جرمن وزیر داخلہ نے کہا ہے کہ جرمنی میں اس وقت پانچ سو سے زائد اسلام پسند جنگجو موجود ہیں، جن میں سے متعدد اپنے طور پر حملہ کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔ ان میں سے سینکڑوں پر سکیورٹی اہلکاروں نے نظر بھی رکھی ہوئی ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز نے جرمن وزیر داخلہ تھوماس ڈے میزئر کے حوالے سے بتایا ہے کہ ملک میں اس وقت پانچ سو بیس ایسے افراد کے بارے میں معلومات دستیاب ہیں، جو حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

جرمن روزنامے بلڈ سے گفتگو میں ڈے میزئر نے کہا ہے کہ سکیورٹی ادارے ایسے تین سو ساٹھ مشتبہ افراد کی نگرانی بھی کر رہے ہیں تاکہ ممکنہ حملوں سے بچا جا سکے۔

مہاجرت کے بحران کے بعد جرمنی میں متعدد پرتشدد حملے کیے جا چکے ہیں، جن میں سے جولائی میں ہوئے ایک حملے کی ذمہ داری داعش نے بھی قبول کی تھی۔

تھوماس ڈے میزئر کے مطابق جرمن میں موجود اسلام پسند جنگجو اپنے طور پر یا کسی گروپ کے ساتھ مل کر ایسے مزید حملے کر سکتے ہیں۔

نائن الیون حملوں کی پندرہیوں برسی کی مناسبت دیے گئے اس انٹرویو میں ڈے میزئر نے کہا کہ جرمنی کو اب نہ صرف جہادی گروہوں سے خطرات لاحق ہیں جبکہ کچھ افراد اپنے طور پر اکیلے ہی حملے بھی کر سکتے ہیں۔

جرمن وزیر نے پیرس اور بیلجیم میں ہوئے دہشت گردانہ حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یورپ آنے والے جنگجو خفیہ طور پر اپنے حملوں کی منصوبہ بندی کرتے ہیں۔

جرمن وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ زیادہ خطرہ ایسے انتہا پسندوں سے ہے، جو اپنے طور پر ہی ایسے حملے کر سکتے ہیں کیونکہ ان کے ارادوں کا پتہ لگانا زیادہ مشکل ہے۔

تاہم ڈے میزئر نے کہا کہ جرمن حکام ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں کہ ایسے ممکنہ خطرات کو ختم کر دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ خفیہ ادارے ایسے مشتبہ افراد کی مانیٹرنگ کا کام جاری رکھے ہوئے ہیں اور اسی لیے رواں برس زیادہ تعداد میں مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔

جرمنی میں بہت سے لوگوں کو خدشہ ہے کہ داعش کے بہت سے جنگجو مہاجرین کا روپ دھار کر جرمنی میں داخل ہو چکے ہیں، جو مستقبل میں اس ملک میں خونریز کارروائیاں کر سکتے ہیں۔

Berlin Innenministerkonferenz Thomas de Maiziere

جرمن وزیر داخلہ تھوماس ڈے میزئر کے مطابق سکیورٹی ادارے چوکنا ہیں

گزشتہ برس صرف جرمنی آنے والے ایسے مہاجرین کی تعداد ایک ملین سے زائد تھی۔ ایسے خدشات کے باوجود برلن حکومت متعدد مرتبہ کہہ چکی ہے کہ تمام مہاجرین کو ’جنگجو‘ مت تصور کیا جائے۔

اس بحران کی وجہ سے عوامی مقبولیت کے کم ہو جانے کے باوجود جرمن چانسلر انگیلا میرکل مصر ہیں کہ مہاجرین کو پناہ دی جائے گی اور ان کی حکومت اس بحران پر قابو پا لے گی۔

دورسری طرف میرکل کی مہاجر دوست پالیسی پر جہاں عوامی سطح پر تحفظات میں اضافہ ہوا ہے، وہیں جرمن چانسلر کے اپنے سیاسی اتحاد میں شامل کئی سیاستدان بھی انہیں کھلے عام تنقید کا نشانہ بنانے لگ گئے ہیں۔