1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

جرمنی میں پارلیمانی انتخابات میں شرکت کا حق

ہرجرمن باشندہ، جو وفاقی جمہوریہء جرمنی کےقیام کے بعد سے تسلسل کے ساتھ تین مہینے سے زیادہ کا وقت جرمنی میں گذار چکا ہو، یہاں منعقدہ پارلیمانی انتخابات میں شرکت کا حقدار ہے۔

default

امریکہ میں تقریبا دو لاکھ جرمن شہری آباد ہیں

افسوس کہ بہت کم جرمن باشندے اِس حق کو واقعی استعمال بھی کرتے ہیں۔ جرمن ماحول پسند جماعت گرین پا رٹی اور کچھ دیگر جماعتیں امریکہ میں آباد جرمن باشندوں کو بھی اِن انتخابات کے حوالے سے متحرک کرنا چاہتی ہیں۔

واشنگٹن میں قائم جرمن سفارت خانہ تو نہیں بتاتا کہ امریکہ میں آباد جرمن باشندوں کی تعداد کتنی ہے تاہم واشنگٹن میں جرمن گرین پارٹی کے نمائندے آرنے یُنگ یوہان کا اندازہ ہے کہ یہ تعداد دو لاکھ ہے، جن میں سے تقریباً پانچ ہزار نے وفاقی جرمن پارلیمان کے گذشتہ انتخابات میں ووٹ ڈالے تھے۔ واشنگٹن میں گرین پارٹی کی مقامی شاخ کی بنیاد ڈالنے والوں میں شامل آرنے یُنگ یوہان کے مطابق یہ تعداد، ظاہر ہے بہت کم ہے۔

’’ہم نے ایک ہدف مقرر کیا ہے اور وہ ہے انتخابات میں اُن جرمنوں کی شرکت میں اضافہ کرنا، جو امریکہ میں آباد ہیں۔

جرمن پارلیمان کے انتخابات میں امریکہ میں آباد جرمن باشندوں کی کم شرکت کی ایک وجہ دفتر شاہی کی رکاوٹیں بھی ہیں۔ جو شخص بھی اپنا ووٹ دینا چاہتا ہے، اُسے بر وقت اپنا نام جرمن ہوم لینڈ کمیونٹی کے ہاں ووٹروں کی فہرست میں درج کروانا پڑتا ہے۔ پہلے اِس سلسلے میں ایک فارم پُر کرنا پڑتا ہے۔ اِس کے علاوہ جرمن شہریوں کو حلَف اٹھانا پڑتا ہے کہ وہ ووٹ دینے کا حق رکھتے ہیں۔ اِس کے بعد ہی اُنہیں ضروری کاغذات فراہم کئے جاتے ہیں۔

EU Wahlen in Deutschland Wahlurnen

کئی دیگر جرمن باشندے ایسے بھی ہیں، جنہیں یہ پتہ ہی نہیں کہ وہ اپنا حق رائے دہی استعمال کر بھی سکتے ہیں۔ آرنے یُنگ یوہان کے خیال میں یہ بات بے حد اہم ہے کہ ووٹ کا حق رکھنے والے زیادہ سے زیادہ جرمن باشندوں تک تمام ضروری معلومات پہنچائی جائیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ جرمن گرین پارٹی کی امریکی دارالحکومت میں قائم شاخ ستائیس ستمبر کو ہونے والے پارلیمانی انتخابات کے ساتھ ساتھ جرمنی کی تازہ سیاسی صورتحال میں بھی گہری دلچسپی لیتی ہے۔

’’ہم لوگ مہینے میں ایک بار مل بیٹھتے ہیں اور تازہ سیاسی حالات و واقعات پر بحث کرتے ہیں یا پھر گرین پارٹی کے کسی رہنما مثلاً یُرگن ٹرٹین، رائن ہارڈ بیوتیک ہوفر یا پھر چَیم اوئیزدیمیر کی واشنگٹن میں موجودگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اُنہیں اپنے گھر بُلاتے ہیں اور پھر افغانستان مشن یا پھر مالیاتی بحران وغیرہ پر بات کرتے ہیں۔‘‘

امریکہ میں جرمن گرین پارٹی کے ساتھ ساتھ دیگر جرمن جماعتوں کے حامی بھی منظم ہو رہے ہیں۔ جرمن سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کے حامی آپس میں ہی ملنے کی بجائے یورپی یونین کے رکن ملکوں کے امریکہ میں آباد سوشل ڈیموکریٹس کے ساتھ مل بیٹھتے ہیں۔ تاہم واشنگٹن میں کوئی مقامی شاخ نہ سوشل ڈیموکریٹس کی ہے اور نہ ہی جرمنی کی یونین جماعتوں کی۔ البتہ یونین جماعتوں سی ڈی یُو اور سی ایس یُو کے دوستوں کی ایک انجمن سن 2005ء سے قائم ہے، جس کے چیئرمین مِشاعیل کیوپر کے مطابق انجمن کے پچیس ارکان مہینے میں ایک بار ملاقات کرتے ہیں:’’ہم امریکہ میں رہ رہے ہوں یا جنوبی افریقہ اور انگلینڈ میں یا پھر کہیں بھی، ایک جرمن کے طور پر ہم برلن یا پھر دیگر علاقائی پارلیمانی اداروں میں پیش آنے والے واقعات سے بہرحال متاثر ہوتے ہیں۔ اِس لئے ہم ہر جرمن شہری پر زور دیتے ہیں کہ وہ ضرور ووٹ ڈالے۔‘‘

ستائیس ستمبر یعنی انتخابات کے دن، گرین پارٹی کے ساتھ ساتھ یونین جماعتوں کے حامی بھی امریکہ میں انتخابی پارٹیاں منظم کریں گے اور مل جل کر نتائج سنیں گے۔ ساتھ ہی ساتھ لیکن یہ بھی دیکھیں گے کہ اِس بار امریکہ میں آباد کتنے جرمن شہریوں نے اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا۔

جائزہ : میودراک زورِچ، واشنگٹن / امجد علی

ادارت : کشور مصطفیٰ