1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جرمنی میں ٹرین کے جان لیوا حادثات

جرمنی کے شمالی حصے میں ہفتے کی رات دو ٹرینوں کے ٹکرانے سے 10 افراد ہلاک جبکہ 40 زخمی ہوگئے ہیں۔ جرمن پولیس کے مطابق صوبہ سیکسنی انہالٹ میں یہ حادثہ ایک مال بردار ٹرین اور ایک مسافر ٹرین کی ٹکر کے نتیجے میں ہوا۔

default

دونوں ٹرینوں کے ٹکرانے کی وجوہات ابھی تک واضح نہیں ہوسکی ہیں۔ مسافر ٹرین ہیرس ایلبے ایکسپریس HEX ماگڈے برگ شہر سے ہالبرشٹٹ جارہی تھی۔ اس گاڑی میں قریب 50 مسافر سوار تھے۔ حکام کے مطابق یہ دونوں گاڑیاں پوری رفتار سے ٹکرائیں جس کے نتیجے میں مسافر ٹرین پٹری سے اترگئی۔ دونوں شہروں کے درمیان سنگل پٹری ہے جس پر رات کے وقت کام بھی ہورہا تھا۔

حادثے کے علاقے میں شدید دھند کے باعث امدادی عملے کو مشکلات پیش آئیں جبکہ زخمیوں کو ہسپتال پہنچانے کے لیے ہیلی کاپٹرز بھی استعمال نہ کیے جاسکے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق حادثے کے بعد ٹرین میں آگ لگ گئی تھی تاہم حکام نے اس خبر کی تردید کی ہے۔

جرمنی میں پچھلے چند سالوں کے دوران ریل کے کئی جان لیوا حادثات ہوچکے ہیں۔ جن کی مختصر تفصیل کچھ یوں ہے:

Zugunglück in Sachsen Anhalt bei Oschersleben NO FLASH

حکام کے مطابق دونوں گاڑیاں پوری رفتار سے ٹکرائیں

- تین جون 1998ء کو میونخ سے ہیمبرگ جانے والی انٹرسٹی ایکسپریس (ICE) ایشیڈے کے مقام پر ایک پُل سے ٹکرا کر پٹری سے اتر گئی تھی۔ جرمنی کے شمالی علاقے میں ہونے والے اس بدترین حادثے میں 101 افراد ہلاک جبکہ 88 زخمی ہوئے تھے۔

- جون 2003ء میں شروزبرگ میں دو ریجنل ٹرینیں آمنے سامنے ٹکرا گئیں۔ جرمنی کے جنوب مشرقی علاقے میں ہونے والے اس حادثے میں چھ افراد ہلاک جبکہ 25 زخمی ہوئے تھے۔

- سال 2006ء میں ہونے والے ایک ٹرین حادثے میں 23 افراد ہلاک جبکہ 10 زخمی ہوئے۔ یہ حادثہ 170 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے دوڑتی ہوئی تجرباتی 'میگنیٹک سسپنشن ٹرانس ریپڈ' ٹرین کو اس وقت پیش آیا جب وہ معائنہ کرنے والی ایک گاڑی سے ٹکرا گئی۔ یہ حادثہ جرمنی کے شمال مغربی حصے لاتھن کے مقام پر پیش آیا تھا۔

- گزشتہ برس 17 اگست کو فرینکفرٹ سے پیرس جانے والی انٹرسٹی ایکسپریس جرمنی کے جنوب مغرب میں لامبریخٹ کے مقام پر کوڑا کرکٹ لے جانے والے ایک ٹرک سے ٹکرا گئی تھی۔ اس حادثے میں 15 افراد زخمی ہوئے تھے۔

رپورٹ: افسراعوان

ادارت: شادی خان سیف

DW.COM

ویب لنکس