1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جرمنی میں ٹرین حادثہ، ہلاکتیں بڑھ کر آٹھ ہوگئیں

جرمنی کے جنوبی صوبہ باویریا میں دو ٹرینوں کے ٹکرانے کے باعث متعدد افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ زخمیوں کی تعداد 150 کے قریب بتائی جا رہی ہے۔ جرمن پولیس کی طرف سے تازہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد آٹھ ہو گئی ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز نے باویریا پولیس کے ایک ترجمان کے حوالے سے بتایا ہے کہ دو ٹرینوں کے ٹکرانے کا یہ حادثہ آج منگل نو فروری کو مقامی وقت کے مطابق صبح 6:48 پر پیش آیا۔ ترجمان کے مطابق، ’’دو ٹرینیں آمنے سامنے سے ٹکرائیں‘‘۔ اس ترجمان کا مزید کہنا تھا، ’’100 کے قریب زخمی ہیں۔ بہت سے لوگ شدید زخمی ہیں جبکہ متعدد ہلاک ہوئے ہیں۔‘‘ یہ حادثہ جرمنی کے جنوب مشرقی حصے میں باڈ ایبلنگ کے قریب پیش آیا۔

جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے نے زخمیوں کی تعداد 150 بتائی ہے۔ پولیس کے ایک ترجمان کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ان میں سے 10 افراد شدید زخمی ہیں ۔ ڈی پی اے کے مطابق یہ حادثہ دو ریجنل یا علاقائی ٹرینوں کے درمیان پیش آیا۔ قبل ازیں اس جرمن نیوز ایجنسی کی طرف سے بتایا گیا تھا کہ ایک ٹرین ٹریک سے اُتر گئی جس سے متعدد بوگیاں اُلٹ گئیں۔

آٹھ ہیلی کاپٹرز زخمیوں کو ہسپتالوں تک پہنچانے کے لیے استعمال کیے جا رہے ہیں

آٹھ ہیلی کاپٹرز زخمیوں کو ہسپتالوں تک پہنچانے کے لیے استعمال کیے جا رہے ہیں

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس نے پولیس کے ترجمان اسٹیفان زونٹاگ کے حوالے سے بتایا ہے کہ صبح سات بجے سے کچھ پہلے روزن ہائیم اور ہولزکرشن کے درمیان دو ریجنل ٹرینیں ایک ہی ٹریک پر آمنے سامنے آنے کی وجہ سے ٹکرا گئیں۔ زونٹاگ کے مطابق دو افراد ہلاک ہوئے ہیں تاہم حادثے کا منظر اس قدر پریشان کُن ہے کہ ان کے پاس ہلاک یا زخمی ہونے والوں کی حتمی تعداد ابھی تک موجود نہیں ہے۔

زونٹاگ کا مزید کہنا تھا، ’’اس علاقے میں یہ کئی برسوں کے دوران کا سب سے بڑا حادثہ ہے۔ بڑی تعداد میں ایمرجنسی ڈاکٹر، ایمبولینس اور ہیلی کاپٹرز امدادی کاموں کے لیے موقع پر موجود ہیں۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ متعدد افراد ابھی تک بوگیوں کے ملبے میں پھنسے ہوئے ہیں اور امدادی کارکن انہیں نکالنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

ڈی پی اے کے مطابق آٹھ ہیلی کاپٹرز زخمیوں کو ہسپتالوں تک پہنچانے کے لیے استعمال کیے جا رہے ہیں۔ یہ دونوں ٹرینین پرائیویٹ کمپنی میریڈیان چلاتی ہے اور حادثے کی وجہ ابھی تک معلوم نہیں ہو سکی ہے۔