1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جرمنی میں نیونازی قتل کے مقدمے میں اختتامی جرح

جرمنی میں ایک مبینہ نیو نازی دہشت گرد گروپ کی آخری رکن کے خلاف جاری مقدمے میں وکلائے استغاثہ نے آج بدھ کے روز اپنے اختتامی دلائل کا آغاز کر دیا ہے۔

بیاٹے شَیپے نامی ملزمہ کے خلاف میونخ کی ایک عدالت میں گزشتہ چار برس سے مقدمہ چل رہا ہے۔

شَیپے پر الزام ہے کہ اس نے نیو نازی گروپ نیشنل سوشلسٹ انڈرگراؤنڈ یا NSU کے ارکان کی طرف سے 10 افراد کے قتل میں معاونت کی تھی۔ اس گروپ نے آٹھ ترک نژاد باشندوں، ایک یونانی شہری اور ایک جرمن خاتون پولیس اہلکار کو سال 2000ء اور 2007ء کے درمیانی عرصے میں قتل کر دیا تھا۔

اس وقت 42 سالہ شَیپے قتل کی ان وارداتوں میں ملوث ہونے سے انکاری ہے اور اس نے ان جرائم کی ذمہ داری اسی گروپ کے دو ارکان اُووے مُنڈلوس اور اُووے بوہنہارٹ پر عائد کی ہے۔ ان دونوں افراد کی 2011ء میں موت واقع ہو گئی تھی اور بظاہر یہ قتل یا خود کشی کا ایک واقعہ تھا۔

باغبانی کی باقاعدہ تربیت حاصل کرنے والی شیپے پر جرمنی کے مشرقی شہر سویکاؤ میں واقع اُس اپارٹمنٹ کو نذر آتش کرنے کا بھی الزام ہے جہاں وہ مُنڈلوس اور بوہنہارٹ کے ساتھ رہ چکی تھی۔

شیپے کے خلاف اس مقدمے کا آغاز مئی 2013ء میں ہوا تھا۔ امید کی جا رہی ہے کہ جرمن وکلائے استغاثہ اس مقدمے میں اپنے دلائل دینے میں قریب 22 گھنٹے کا وقت صرف کریں گے۔

Infografik NSU Mordopfer BRA

یو نازی گروپ NSU نے آٹھ ترک نژاد باشندوں، ایک یونانی شہری اور ایک جرمن خاتون پولیس اہلکار کو سال 2000ء اور 2007ء کے درمیانی عرصے میں قتل کر دیا تھا

میونخ ہی میں چار دیگر مشتبہ افراد کے خلاف بھی ایک مقدمہ چل رہا ہے جن پر الزام ہے کہ انہوں نے انتہائی دائیں بازو کے اس گروپ کو مدد فراہم کی تھی۔

شَیپے کے وکلاء متوقع طور پر رواں برس ستمبر میں اپنے حتمی دفاعی دلائل پیش کریں گے۔ اس مقدمے میں عدالتی فیصلہ رواں برس کے آخر تک متوقع ہے۔

DW.COM