1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

جرمنی میں نوجوان اور بزرگ نسل کے مابین فرق

نوجوان نسل نے اگرابھی اپنے لئے کوششیں نہ کیں تو وہ موجودہ سیاست سے سب سے طویل عرصے تک اور سب سے شدید متاثر ہونے والے افراد ہونگے۔

default

نوجوان نسل کسی بھی دَور کی ہو، اُس کا اپنی بزرگ نسل سے مختلف ڈگر پر چلنا ایک فطری سی بات ہوتی ہے۔ 1968ء میں اُس وقت کی جرمن نوجوان نسل نے اپنے والدین اور اپنے ملک کے نازی سوشلسٹ ماضی کے خلاف سڑکوں پراحتجاج کیا۔ نوجوان نسل کو ہراُس چیز پر شک تھا، جو اُنہیں اپنے والدین سے ملی تھی اور وہ جرمنی کے پورے نظام کو تبدیل کرنا چاہتے تھے۔ اُس وقت جو نوجوان نظام کو تبدیل کرنے نکلے تھے، آج اُن کے بچے بھی جوان ہو چکے ہیں۔ جرمنی کی موجودہ نوجوان نسل کو ورثے میں ماحولیاتی مسائل اور پینشن کا ایک ایسا نظام ملا ہے، جس میں وہ پیسے تو جمع کرائیں گے لیکن ریٹائر ہونے کے بعد جو رقم انہیں ملے گی، اس سے ان کا گزارا ہونا مشکل نظر آتا ہے۔

جب کسی سے یہ سوال کیا جائے کہ کیا جرمنی میں نوجوان اور بزرگ نسل اپنے اپنے ساتھ ہونے والے سلوک کو انصاف پر مبنی تصور کرتی ہے؟ تو مختلف جوابات ملتے ہیں۔ کوئی کہتا ہے کہ اسے یہ دیکھ کربہت غصہ آتا ہے کہ ابھی لو گ 65 سال تک کام کر کے اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد اپنی پینشن سے خوب مزے کر سکتے ہیں جبکہ اسے یہ بھی نہیں معلوم کہ اسے پینشن کے طور پر مناسب رقم ملے گی بھی یا نہیں؟ لیکن کچھ کے خیال میں اس صورتحال کے حوالے سے بزرگ نسل کو کوئی الزام نہیں دیا جا سکتا۔

وولفگانگ گرنڈیگر ابھی 25 سال کے ہیں اور وہ نوجوان اور بزرگ نسل کے تعلقات کےحوالے سے کافی فکرمند ہیں۔ ان کی اب تک تین کتابیں شائع ہو چکی ہے، جن میں سے تیسری کا عنوان ہے’ نوجوانوں کی بغاوت‘۔ اس کتاب کا مرکزی موضوع ہے کہ کس طرح نسلوں کے مابین خلیج کو بڑھنے سے بچایا جا سکتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’ وہ نہ تو اپنے دادا، دادی یا نانا نانی کی نسل کے خلاف ہیں اور نہ ہی اپنے والدین کے۔ تاہم ان کےخیال میں معاشرتی اعتبار سے تنازعات موجود ہیں۔ مثال کے طور پر ابھی اگر کسی کے پاس سرمایہ ہے تو اُسے کہا جا تا ہے کہ وہ اپنا پیسہ یا تو اضافی پینشن، تعلیم اور ماحول کو بہتر بنانے پر خرچ کرے۔‘‘

وولفگانگ کے خیال میں نوجوان نسل جرمن حکومت پر قرضوں کے بھاری بوجھ اور پینشن کے نظام میں در آنے والی بے یقینی کی وجہ سےتشویش میں مبتلا ہے۔ نوجوان نسل کو خطرہ ہے کہ جب ان کی پینشن کا وقت آئے گا توحکومت کے پاس اس مد میں دینے کے لئے مناسب رقم نہیں ہوگی۔ اس بارے میں عمر رسیدہ افراد کیا کہتے ہیں؟ کیا انہیں اس صورتحال میں نوجوانوں سےکوئی ہمدردی ہے؟ اس حوالے سے ایک بزرگ نے کہا کہ انہیں اس صورتحال پرکوئی افسوس نہیں ہے۔ ہرنسل کو مختلف چیلنجزکا سامنا ہوتا ہے اور وہ بھی اپنا موازنہ اپنے والد یا دادا کے دور سے نہیں کرتے۔ انہیں کوئی احساسِ جرم نہیں ہے بلکہ نوجوانوں سے یہ امید ہے کہ وہ اس صورتحال کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔‘‘

جرمنی میں پنشن یافتہ افراد کی بہت بڑی تعداد یعنی بیس ملین کے پیشِ نظر سیاستدان اِس طبقے کو اپنے ووٹ بینک کے طور پر دیکھتے ہیں اور پالسیاں بناتے وقت بھی اُنہی کے مسائل اور ضروریات کو پیشِ نظر رکھتے ہیں۔ اس حوالے سے وولفگانگ گرنڈیگر نے اپنی کتاب میں یہ تجویز پیش کی ہے کہ ووٹ ڈالنے کی عمرکم کی جائے۔ اس کا اثر یہ پڑے گا کہ سیاستدان نوجوانوں پرزیادہ توجہ دیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آج کل کے نوجوان سیاسی جماعتوں میں زیادہ دلچسپی نہیں لیتے بلکہ وہ زیادہ تر جلوسوں اور احتجاجی مظاہروں میں شرکت کرتے ہیں۔ وولفگانگ کے مطابق نوجوان نسل کو دوسروں تک اپنی بات پہچانےکے لئے ایک الگ راستہ تلاش کرنا ہو گا، جیسا کہ ای میل۔ تاہم ضرورت اس بات کی ہے کہ اس سلسلے میں کچھ نہ کچھ کیا جانا چاہیے۔

وولفگانگ کے خیال میں اگر نوجوان نسل نے اپنے لئے کوششیں نہ کیں تو وہ موجودہ سیاست سے سب سے طویل عرصے تک اور سب سے شدید متاثر ہونے والے افراد ہونگے۔