1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

جرمنی میں نئے اور بہتر پلوٹونیم ڈیٹیکٹر کی تیاری

جرمن شہر ایسن میں ایٹمی طبیعات کے محققین نے ایک ایسا نیا پلوٹونیم ڈیٹیکٹر ایجاد کیا ہے، جو ایٹمی بموں میں استعمال ہو سکنے والے اس جوہری تابکار مادے کی تھوڑی سے تھوڑی مقدار کا بھی پتہ چلا سکتا ہے۔

default

جرمنی میں ایسن ڈوئسبرگ یونیورسٹی کے ریسرچر بھاسکر مکھرجی کے مطابق انہوں نے اپنے ساتھی محققین کے ساتھ مل کر کسی بھی جگہ پر یا کسی بھی شے میں چھپائے گئے پلوٹونیم کا پتہ چلانے والا جو نیا آلہ ایجاد کیا ہے، وہ اولین جائزوں کے مطابق دنیا بھر میں اپنی نوعیت کی سب سے چھوٹی مشین ثابت ہوا ہے۔

مکھرجی کے بقول اب تک اس نئے ڈیٹیکٹر کو صرف اس کی اولین اور کسی حد تک قابل استعمال شکل میں یعنی ایک پروٹوٹائپ کے طور پر ہی تیار کیا گیا ہے لیکن زیادہ سے زیادہ اسی سال مئی تک وہ اور ان کے ساتھی اس مشین کو مزید بہتری کے بعد ایسی حالت میں لے آئیں گے کہ وہ ہر جگہ مکمل طور پر استعمال میں لائی جا سکے گی۔

Body Scanner am Flughafen Schiphol

یہ پلوٹونیم ڈیٹیکٹر ہوائی اڈوں پر بھی استعمال کیا جا سکے گا

یہ نیا ڈیٹیکٹر پلوٹونیم کی صرف تین گرام تک کی کم مقدار کو بھی آسانی سے تلاش کر سکتا ہے ۔ یہ نیا آلہ اپنی جسامت میں تقریباﹰ ایک چھوٹی بالٹی کے برابر ہے، جسے اٹھا کر باآسانی ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کیا جا سکتا ہے اور جس کی تیاری پر اٹھنے والی لاگت بھی بہت کم ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ نئی مشین اب تک مختلف ہوائی اڈوں پر استعمال ہونے والے پلوٹونیم ڈیٹیکٹرز کے مقابلے میں بہت چھوٹی اور اپنی قیمت میں کافی سستی ہو گی۔ اس کے علاوہ اس نئے آلے کو سکیورٹی ادارے ہوائی اڈوں اور ریلوے اسٹیشنوں کے علاوہ ڈاکخانوں جیسی جگہوں یا ایٹمی ری ایکٹروں جیسی تنصیبات میں بھی استعمال میں لا سکیں گے تاکہ ایٹم بموں میں استعمال ہو سکنے والے پلوٹونیم کی اسمگلنگ، بذریعہ ڈاک ترسیل یا چوری کے امکانات کو کم سے کم بنایا جا سکے۔

بھاسکر مکھرجی، جو جرمن صوبے نارتھ رائن ویسٹ فیلیا کے شہر ایسن میں مغربی جرمن مرکز برائے پروٹون تھیراپی WPE کے لیے بھی کام کرتے ہیں، کہتے ہیں کہ اب تک ایک عام پلوٹونیم ڈیٹیکٹر کی قیمت ایک لاکھ یورو کے برابر ہوتی ہے مگر ان کا تیار کردہ ڈیٹیکٹر صرف قریب 13 ہزار یورو میں تیار ہو جاتا ہے۔

رپورٹ: مقبول ملک

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM

ویب لنکس