1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

جرمنی میں مہاجرین کے کیمپ میں لڑائی، چھ زخمی

جرمنی میں مہاجرین کے کیمپوں میں ہونے والے جھگڑوں میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ ایک شیلٹر ہاؤس میں ایسی ہی ایک لڑائی عربوں اور کردوں کے مابین ہوئی، جس میں چھ پناہ گزین زخمی ہوئے جبکہ تین گرفتار کر لیے گئے۔

یہ لڑائی جمعے اور ہفتے کی درمیانی شب ’اِٹسے ہوئے‘ نامی چھوٹے سے شہر میں تارکین وطن کے ایک شیلٹر ہاؤس میں ہوئی، جس میں عرب اور کُرد مہاجرین انتہائی طیش میں ایک دوسرے کے آمنے سامنے آ گئے۔ جرمن دارالحکومت برلن سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق شمالی جرمنی کے اس شہر میں ہونے والے جھگڑے میں وہاں مقیم پناہ گزینوں میں سے پچاس کے قریب عرب اور کرد مہاجرین آپس میں اس طرح الجھ پڑے کہ اطراف کی طرف سے حملوں کے لیے ڈنڈوں اور کرسیوں کا استعمال کیا گیا۔ پولیس کے مطابق چھ افراد زخمی ہوئے جن میں سے دو کو زیادہ چوٹیں آئی ہیں۔

اِٹسے ہوئے کے شیلٹر ہاؤس میں پیش آنے والا یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں ہے۔ حالیہ دنوں میں اس سے پہلے بھی کئی جرمن شہروں میں پناہ گزینوں کی رہائش گاہوں میں لڑائی کے کئی واقعات دیکھنے میں آ چکے ہیں۔

ان پناہ گزینوں کو ان کی قومیت یا نسل کی بنیاد پر الگ الگ نہیں رکھا جاتا بلکہ ہر کیمپ میں کئی قومیتوں کے مہاجرین ہوتے ہیں۔ اکتوبر کے آغاز پر جرمن شہر کاسل میں ایسے ہی ایک لڑائی میں چودہ افراد زخمی ہو گئے تھے۔ یہ جھگڑا اس کیمپ میں مقیم 70 پاکستانی تارکین وطن اور 300 البانوی پناہ گزینوں کے مابین ہوا تھا۔

پولیس کے مطابق اِٹسے ہوئے میں گزشتہ رات جھگڑے کا آغاز اس وقت ہوا جب ایک عرب باشندے نے کردوں کے ایک گروپ کی بے عزتی کی۔ پھر معاملہ پرتشدد ہو گیا اور درجنوں افراد ایک دوسرے کو ڈنڈوں سے پیٹنے لگے۔ سکیورٹی اہلکاروں نے پَیپر اسپرے استعمال کرتے ہوئے صورت حال پر قابو پانے کی کوشش کی جبکہ پولیس کی مزید نفری بھی طلب کر لی گئی تھی۔ پولیس نے بتایا کہ اس لڑائی میں پناہ گزینوں کے علاوہ چھ پولیس اہلکار بھی معمولی زخمی ہو گئے۔

بعد میں یہ جھگڑا شروع کرنے کے الزام میں عراق اور شام سے تعلق رکھنے والے دو کرد نوجوانوں اور ایک شامی عرب باشندے کو گرفتار کر لیا گیا۔ ان تینوں کو اب جرمنی ہی میں پناہ گزینوں کے کسی دوسرے شیلٹر ہاؤس میں منتقل کر دیا جائے گا۔

جرمنی میں نئے آنے والے پناہ گزینوں کے مابین لڑائی کے آئے روز کے واقعات کے باعث یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ ان نئے مہاجرین کا جرمن معاشرے میں انضمام کس حد تک ممکن ہو گا۔

DW.COM