1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

جرمنی میں مہاجرین کے لیے ’نوکریوں کا بندوبست‘

برلن میں ایک ویب سائٹ کے ذریعے مہاجرین کو آجروں سے ملایا جا رہا ہے، جس سے جرمنی کی روزگار کی منڈیوں میں موجود ہنرمندوں کی کمی کو مہاجرین کی مدد سے پورا کیا جا رہا ہے۔

اس نئی ویب سائٹ کا مقصد ایک طرف تو مہاجرین کی مدد کرنا ہے، تاکہ وہ اپنے ہنر کو بروئے کار لا کر اپنے لیے اچھی ملازمتیں حاصل کر سکیں، مگر ساتھ ہی یہ ویب سائٹ جرمنی کی روزگار کی منڈی میں ہنرمندوں کی کمی کو پورا کرنے کی کوشش بھی کر رہی ہے۔

اس ویب سائٹ کو بنانے والے آئی ٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس ذریعے سے قریب دس ہزار مہاجرین کو ملازمتیں مہیا کی جائیں گی۔ اس ویب سائٹ کی تیاری میں شامی شہر حلب سے تعلق رکھنے والے حسین شاکر بھی شامل ہیں، جو ’’مائگرینٹ ہائر‘‘ نامی اس ویب سائٹ کی کامیابی کے لیے کوشاں ہیں۔ شاکر آئی ٹی کے ماہر ہیں، تاہم اپنے آبائی ملک میں جاری خانہ جنگی کے تناظر میں ہجرت کر کے جرمنی پہنچے ہیں اور اب چاہتے ہیں کہ وہ اپنے مہارت کے ذریعے دیگر مہاجرین کی مدد کریں۔

اس ویب سائٹ کا بنیادی خیال بڑا سادہ سا ہے، مہاجرین کو سی وی اور نوکری کی درخواستیں تیار کرنے میں مدد دی جاتی ہے اور پھر انہیں ان کے ہنر کے اعتبار سے اس جاب پورٹل پر رکھ دیا جاتا ہے، اسی طرح آجر آسانی کے ساتھ اپنی ضرورت کے مطابق ہنرمندوں کو اس پورٹل پر تلاش کر لیتے ہیں اور اس طرح دونوں کا کام ہو جاتا ہے۔

مائگرینٹ ہائر ویب سائٹ کے ٹیلنٹ کے شعبے کے سربراہ اشٹیفان پیرلے باخ کے مطابق، ’’بہت سی کمپنیاں ہیں جو مہاجرین کے حوالے سے اپنے دروازے کھولے ہوئے ہیں اور انہیں ایک موقع دینا چاہتی ہیں، مگر بنیادی مسئلہ مہاجرین اور کمپنیوں کے درمیان رابطہ پیدا کرنے کا تھا، جس کا حل اس ویب سائٹ سے ہو گیا ہے۔‘‘

ان کا مزید کہنا ہے، ’’نوکری کے لیے ظاہر ہے آپ کو نیٹ ورک کی ضرورت ہوتی ہے اور مہاجرین جرمنی میں ایسے افراد کو جانتے نہیں۔ اس لیے یہ ویب سائٹ کمپنیوں اور مہاجرین کے درمیان رابطے کے پل کا کردار ادا کرتی ہے۔‘‘

اس پراجیکٹ کو شروع کیے ہوئے ابھی ایک برس بھی نہیں ہوا۔ اس پراجیکٹ کا آغاز اس وقت ہوا، جب جرمنی کی اہم کاروباری شخصیت ریمی الیاس نے شاکر سے ملاقات کی اور اس خیال کو عملی شکل دی گئی۔ شاکر کے مطابق فی الحال اس ویب پورٹل کے ذریعے ڈیڑھ سو سے ایک سو ساٹھ مہاجرین کو نوکریاں مِل چکی ہیں، تاہم امید ہے کہ یہ پورٹل مہاجرین کے لیے دس ہزار نوکریوں کا ہدف ضرور حاصل کر لے گا۔