جرمنی میں مہاجرین کے سماجی انضمام کا نیا قانون کیا ہے؟ | مہاجرین کا بحران | DW | 25.05.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

جرمنی میں مہاجرین کے سماجی انضمام کا نیا قانون کیا ہے؟

نئی ملازمتیں، جرمن زبان سیکھنا لازمی اور مہاجرین کی رہائش کے انتخاب کے مزید اور سخت قوانین۔ جرمنی میں مہاجرین کے سماجی انضمام کے نئے قوانین پر اتفاق رائے ہو چُکا ہے اور وفاقی کابینہ آج اس کی منظوری دے رہی ہے۔

جرمنی کی وفاقی حکومت نے مہاجرین کے سماجی انضمام کے لیے بنائے جانے والے نئے جرمن قوانین کو Fördern und fordern یعنی ’حوصلہ افزائی اور مطالبہ‘ کا نام دیا ہے۔

آسٹریا نے پناہ کے سخت ترین قوانین متعارف کرادیے

’تارکین وطن کو اٹلی سے بھی ملک بدر کر دیا جائے‘

یہی بات اس نئے قانون کا خاصہ بھی ہے کہ حکومت سہولیات تو فراہم کرے گی لیکن ان کے عوض مہاجرین کو بھی سماجی انضمام یقینی بنانے لیے اپنی ذمہ داریاں بھی نبھانا پڑیں گی۔ سماجی انضمام کے پروگراموں میں بغیر کسی وجہ کے شامل نہ ہونے والے مہاجرین کو اس کے نتائج بھی بھگتنا پڑیں گے۔

آڈیو سنیے 02:49

علی حیدر جرمنی سے ڈی پورٹ کیوں ہوا؟ سنیے اسی کی زبانی

جرمنی کی سیاسی جماعتوں نے سماجی انضمام کے نئے قوانین کے مسودے پر اتفاق رائے کر لیا ہے۔ جرمن چانسر انگیلا میرکل کی سربراہی میں وفاقی کابینہ بھی آج برلن میں منعقد ہونے والے اجلاس کے دوران اس قانون کو منظور کر لے گی۔

ان قوانین کے ذریعے پناہ گزینوں کو جلد از جلد جرمنی کی روزگاری کی منڈی تک پہنچایا جا سکے گا لیکن اس کے ساتھ ساتھ مہاجرین اور تارکین وطن کو جرمن زبان بھی لازمی طور پر سیکھنا پڑے گی۔

جرمنی کے وزیر داخلہ تھوماس ڈے میزیئر اور وفاقی وزیر محنت آندریا نالَیس نے اس قانون کو تاریخی قرار دیا ہے لیکن مہاجرین کی مدد میں سرگرم سماجی ادارے اس قانونی پیکج کو تنقید کا نشانہ بھی بنا رہے ہیں۔

نئے قانون کے چند اہم نکات

  • سماجی انضمام کے نئے قوانین کے مطابق تارکین وطن کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کے لیے وفاقی جرمن فنڈ سے مزید رقم مختص کی جائے گی۔ علاوہ ازیں تارکین وطن کو ملازمتیں فراہم کرنے کے لیے موجود قانونی پیچیدگیوں کو بھی ختم کیا جا رہا ہے۔ قبل ازیں ملازمتوں کے لیے یورپی یونین کے شہریوں کو ترجیح دی جاتی تھی اور مہاجرین کو نوکری اسی صورت ملتی تھی جب اس کام کے لیے کسی یورپی باشندے نے درخواست نہ دی ہو۔
  • پناہ گزینوں کو سماجی انضمام کے کورسز میں لازمی طور پر شرکت کرنا پڑے گی۔ جرمن زبان کا کورس ان تارکین وطن کے لیے بھی لازمی ہے جو پہلے ہی جرمن زبان جانتے ہیں۔ جرمنی میں سیاسی پناہ کی درخواست دینے کے ایک سال کے اندر اندر سماجی انضمام کے کورسز میں رجسٹریشن کرائی جا سکے گی، اس سے قبل مہاجرین دو سال کے اندر رجسٹریشن کروا سکتے تھے۔

  • جو تارکین وطن ان کورسز میں شریک نہیں ہوں گے انہیں اس کے نتائج بھی بھگتنا پڑیں گے۔ قانون کے مطابق انکار کی صورت میں حکومت کی جانب سے مہاجرین کو فراہم کی جانے والی سہولیات ختم یا ان میں کمی کر دی جائے گی۔

  • موجودہ قوانین کے مطابق جرمنی میں موجود تسلیم شدہ مہاجرین کو تین سال بعد جرمنی میں مستقل رہائش دے دی جاتی تھی۔ نئے قانون کے مطابق مستقل رہائش دیے جانے کو مہاجرین کی جرمن زبان میں قابلیت اور آمدن سے مشروط کر دیا گیا ہے۔ جو تسلیم شدہ مہاجرین جرمن زبان نہیں سیکھ پائیں گے انہیں محدود وقت کے لیے ہی جرمنی میں رہنے کی اجازت ہو گی۔

  • نئے مسودے میں شامل ایک اور شق کے مطابق جرمنی کی وفاقی ریاستیں فیصلہ کر سکیں گی کہ مہاجرین کو کس جگہ اور کس شہر میں رکھا جائے۔ اگر کسی جگہ غیر ملکیوں کی آبادی زیادہ ہو جائے تو ایسی صورت میں صوبوں کو یہ اختیار بھی حاصل ہو گا کہ وہ مزید پناہ گزینوں کی آمد پر پابندی لگا دیں۔

ہمیں واپس آنے دو! پاکستانی تارکین وطن

علی حیدر کو جرمنی سے ڈی پورٹ کیوں کیا گیا؟

DW.COM

Audios and videos on the topic